مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 490 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 490

ملنے کے لئے جائے جہاں حضرت سیّدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور دن رات توہین اسلام ان کا کام ہے۔وہ میرے دروازہ پر نہیں آیا تا میں اس کی خاطر داری کرتا بلکہ دشمنانِ اسلام اور دشمنانِ نبی کریمؐ کے دروازہ پر گیا اور اگر وہ اب اس واقعہ سے انکاری ہے تو میں بجز اس کے کیا کہہ سکتا ہوں کہ لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکاَذِبِیْنَ۔قولہ: آپ نے پیشگوئی کی تھی کہ طاعون کا قادیان پر اثر نہ ہو گا اور میرے مریدوں سے کوئی اس مرض مہلک میں گرفتار نہ ہو گا اور اس کے بر عکس ہوا۔الجواب: میںنے کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کی کہ قادیان میں طاعون سے کوئی نہیں مرے گا۔بلکہ قادیان کی نسبت یہ پیشگوئی کی تھی کہ لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَہَلَکَ الْمُقَامُ۱؎ یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میں تیری عزت کا پاس نہ کرتا تو قادیان کے تمام لوگوں کو ہلاک کر دیتا کیونکہ اس گائوں میں اکثر شریر اور خبیث ناپاک طبع ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۲؎ یعنی میں قادیان میں طاعون بھیجوں گا اور میں ان سب لوگوں کو بچا لوں گا جو تمہارے گھر کی چار دیوار کے اندر ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر قادیان کی نسبت عام طور پر بچانے کا وعدہ تھا تو پھر اس وحی الٰہی کے کیا معنی ہوئے کہ میںاس گھر کے رہنے والوں کو بچا لوں گا۔اب میں یہ بھی بتلاتا ہوں کہ شریر اور مفسد طبع لوگوں نے کہاں سے ایک جھوٹی بات بنا لی۔پس اس کی جڑ یہ ہے کہ ایک یہ وحی الٰہی تھی اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ۔اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ۔۳؎ یعنی خد اتعالیٰ اس بیماری کو اس ملک کے رہنے والوں سے دور نہیں کرے گا جب تک وہ ان خیالات کو دو رنہ کریں جو اُن کے دل میں ہیں اور وہ اس گائوں کو یعنی قادیان کو بالکل تباہ ہونے سے بچا لے گا یعنی قادیان کی ایسی حالت نہ ہو گی کہ بالکل نابود ہو جائے جیسا کہ اس نواح میں کتنے دیہات نابود ہو گئے اور ان کا نام و نشان نہ رہا۔یاد رہے کہ اَوٰی کا لفظ جو اس وحی الٰہی میں ہے یعنی یہ فقرہ کہ اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ۔اس لفظ کے عربی میں یہ معنی ہیں کہ ایک حد تک مصیبت دکھلا کر پھر اپنی پناہ میں لے لینا اور بکلّی برباد نہ کرنا یہ محاورہ ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۳۴۴ ۲؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۳۴۸ ۳؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۲۶۱