مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 486 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 486

مکتوبات احمد ۴۸۶ مکتوب نمبر ۲۷ ایک مشہور درس گاہ کے صاحبزادے کے نام جلد اول ( معزز ناظرین بدر ۔ اید کم اللہ تعالیٰ ۔ کوئی ساڑھے تین سال کا عرصہ گزرتا ہے کہ پنجاب کی ایک مشہور درسگاہ کے صاحبزادے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور عریضہ لکھا جس کا مضمون اُس کے جواب سے ظاہر ہے۔ حضرت نے کمال توجہ سے دو ورق اپنے دست مبارک سے نوازش نامہ لکھ کر ارسال فرمایا جو تاحال پبلک پر ظاہر نہ ہوا۔ میں نے بڑی مشکل سے اس کی نقل بہم پہنچائی ۔ امید ہے ، کئی سعید روحیں اس سے مستفید ہوں گی ۔ ) آپ کا نیاز مند محمد ظہور الدین اکمل آف گو لیکے ضلع گجرات پنجاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی اخویم حافظ صاحب سلمہ ربَّہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط پہنچا۔ واضح ہو کہ اکثر لوگ دعا کے اصول سے بے خبر ہیں اس اس لئے اپنے مقاصد سے محروم رہتے ہیں ۔ دعا میں یہ شرط ہے کہ اس شخص سے جس سے دعا کروانا چاہتا ہے اور جو در حقیقت میں مقبول درگاہ الہی ہے، پورا پورا تعلق ارادت اور محبت کا پیدا کرے اور اس پر ثابت کرے کہ وہ ایسا ہی ہے تا دعا کرنے والے کی توجہ کامل طور پر اس کی طرف ہو جائے کیونکہ جو لوگ خدا کے مقبول بندے ہوتے ہیں وہ زبانی باتوں سے متوجہ نہیں ہو سکتے جب تک سچی ارادت مشہود نہ کریں اور کسی کو وفادار نہ پائیں ۔ پھر دوسری دعا کے لئے شرط یہ ہے کہ ایسے شخص سے جو بطور شفیع درمیان ہو کر دعا کرتا ہے ہرگز ہرگز اس سے جلدی نہ کی جاوے گوسات سال ہی گزر جائیں جو دنیا کی عمر کا ایک عدد ہے ۔ ایسے لوگ ، بہت امید سے کہا جاتا ہے کہ آخر اپنے مطلب کو پاتے ہیں مگر جلدی کرنے والے اپنے مطلب کو نہیں پاتے ۔