مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 486
مکتوب نمبر ۲۷ ایک مشہور درس گاہ کے صاحبزادے کے نام (معزز ناظرین بدر۔ایّدکم اللہ تعالیٰ۔کوئی ساڑھے تین سال کا عرصہ گزرتا ہے کہ پنجاب کی ایک مشہور درسگاہ کے صاحبزادے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور عریضہ لکھا جس کامضمون اُس کے جواب سے ظاہر ہے۔حضرت نے کمال توجہ سے دو۲ ورق اپنے دست مبارک سے نوازش نامہ لکھ کر ارسال فرمایا جو تاحال پبلک پر ظاہر نہ ہوا۔میں نے بڑی مشکل سے اس کی نقل بہم پہنچائی۔امید ہے، کئی سعید روحیں اس سے مستفید ہوں گی۔) آپ کا نیاز مند محمد ظہور الدین اکمل آف گولیکے ضلع گجرات پنجاب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم حافظ صاحب سلمہ رَبَّہٗ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط پہنچا۔واضح ہو کہ اکثر لوگ دعا کے اصول سے بے خبر ہیں اس لئے اپنے مقاصد سے محروم رہتے ہیں۔دعا میں یہ شرط ہے کہ اس شخص سے جس سے دعا کروانا چاہتا ہے اور جو درحقیقت میں مقبول درگاہِ الٰہی ہے، پورا پورا تعلق ارادت اورمحبت کا پیدا کرے اور اس پر ثابت کرے کہ وہ ایسا ہی ہے تا دعا کرنے والے کی توجہ کامل طور پر اس کی طرف ہو جائے کیونکہ جو لوگ خدا کے مقبول بندے ہوتے ہیںوہ زبانی باتوں سے متوجہ نہیں ہو سکتے جب تک سچی ارادت مشہودنہ کریں اور کسی کو وفا دار نہ پائیں۔پھر دوسری دعا کے لئے شرط یہ ہے کہ ایسے شخص سے جو بطور شفیع درمیان ہو کر دعا کرتا ہے ہرگز ہرگز اس سے جلدی نہ کی جاوے گو سات سال ہی گذر جائیں جو دنیا کی عمر کا ایک عدد ہے۔ایسے لوگ، بہت امید سے کہا جاتا ہے کہ آخر اپنے مطلب کو پاتے ہیں مگر جلدی کرنے والے اپنے مطلب کو نہیں پاتے۔