مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 485
اس خط پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہام الٰہی پر مشتمل مہر اُذْکُرْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکَ۱؎ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَ قُدْرَتِیْ۔۲؎ لگائی تھی۔ذیل میں عبارت حضرت مولوی نور الدین صاحب کی ہے جوحضرت صاحب کے حکم سے مراسلہ موصوف کے نیچے لکھی گئی۔کیونکہ معلوم ہو اتھا کہ صاحب مکتوب الیہ کی مولوی صاحب سے سابقہ معرفت ہے۔اس لئے حضرت صاحب نے مناسب خیال فرما کر مولوی صاحب کی طرف سے تھوڑا سا مضمون لکھوا دیا اور وہ یہ ہے۔خاکسار نورالدین بگرامی خدمت قاضی صاحب۔پس السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزارش پرداز سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۳؎ پس بامتثال امرخاتم النبین رسول ربّ العٰلمین علیہ الصلٰوۃ والسلام الٰی یوم الدین کے دردِ دل سے عرض ہے کہ جناب امام زمان علیہ الرضوان کے ارشاد کو دنیاکی بے ثباتی پر نظر کر کے غور سے پڑھیں اور بجائے اس کے کہ آپ گزشتہ بزرگان کی قبور پر توجہ کریں، زندہ امام کے انصار اللہ میں اپنے آپ کو منسلک کردیں۔سارے کمالات اور الٰہی رضا مندی اطاعت میں ہیں۔اور بس ( نورالدین)٭ ٭…٭…٭ ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۷۵ ۲؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۷۲ ۳؎ بخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیہ مایحب لنفسہ ٭ الحکم ۲۸؍ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ۶،۷