مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 483 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 483

مکتوب نمبر ۲۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ وایّد۔بخدمت اخویم مولوی سلطان محمود صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا میں مامور ہوں کہ ہر ایک رشید اور سعید کو اپنی بات سے اطلاع دوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس صدی چہار دہم کے سر پر اس قسم کی تجدید کے لئے بھیجا ہے کہ تاوہ فتنہ عیسائیت کا جس کے بیرونی حملوں سے اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور نیز وہ فتنہ اندرونی جو خود مسلمانوں کی اعتقادی اور عملی اور ایمانی حالت تنزّل میں ہے۔یہ دونوں فتنے میرے ذریعہ سے فروکئے جائیں۔چنانچہ اس حکیم مطلق نے بیرونی اصلاح کے لحاظ سے جو متعلق کسر صلیب ہے، میرا نام مسیح موعود رکھا ہے اور اندرونی فتنہ کے فرو کرنے اور مسلمانوں کو حقیقی ہدایت پر قائم کرنے کے لحاظ سے میرا نام مہدی معہود رکھا ہے۔کیونکہ صلیبی فتنہ جس کے ہاتھ سے فرو ہو اور بگڑی ہوئی عیسائیت کا زوال ہو۔وہ وہی مجدّد ہے جس کانام آسمان پر مسیح ہے۔اور وہ شخص جو ایسے وقت میں آوے کہ جب اکثر مسلمان مغز اور حقیقت کو کھو بیٹھے ہوں اور وہ اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ تا دوبارہ حقیقی ہدایت اور ایمان کی روح ان کے اندر پھونکے، وہ وہی مجدد ہے جس کا نام مہدی ہے۔جیسا کہ یہ حدیث ہے لَا الْمَہْدِیْ اِلاَّ عیسٰی۱؎۔اور خد ا نے چودھویںصدی کو اس لئے خاص کیا۔کیونکہ کمال نور کا نظارہ صرف چودھویں رات میں ہوتا ہے اور چودھویں رات کے دونوںطرف انحطاط ہے اور جو شخص زمانہ کی حالت موجودہ پر ایک نظر ڈالے گا اور بیرونی حملوں اور اندرونی فسادوں کو دیکھے گا۔اگر وہ فراست رکھتا ہو تو اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ نہ کسی تکلّف اور بناوٹ سے بلکہ خود زمانہ کی حالت موجودہ نے چاہا ہے کہ اسی صدی کا مجدد مسیح موعود اور مہدی مسعود کے نام سے پکارا جاوے۔کیونکہ آسمان پر خدمتوں اور کاموں کے لحاظ سے نام رکھا جاتا ہے پھر جس کی خدمت کسر صلیب ہے اس کا نام بجز مسیح موعود کے اور کیا ہو سکتا ہے اور ۱؎ ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدۃ الزمان