مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 472
بابو الٰہی بخش کے نام تعارف بابو الٰہی بخش صاحب کا ضمنی ذکر میں نے حافظ محمد یوسف صاحب کے متعلق تمہیدی نوٹ میں کیا ہے۔یہ صاحب ضلع ملتان کے باشندے تھے اور محکمہ نہر میں ترقی کرتے کرتے اکاو نٹنٹ کے درجہ تک پہنچ چکے تھے۔محکمہ نہر کے یہ چند مسلمان افسر مولوی عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ عقیدت اور ارادت رکھتے تھے اور انہوں نے مولوی صاحب موصوف کی زبانی یہ سنا تھا کہ ’’ایک نور پیدا ہوگا جس سے دنیا کے چاروں طرف روشنی ہوجائے گی اور وہ نور مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃوالسلام ہے جو قادیان میں رہتا ہے ‘‘ اور مولوی صاحب موصوف کا جب کبھی ذکر ہو تو حضرت مرزا صاحب کے متعلق نیک خیالات کا اظہار کرتے تھے۔اس لئے اس گروہ کو حضرت اقدس سے تعلق اور محبت پیدا ہوئی۔اپنے فہم اور عقل کے موافق یہ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے اور زمانہ کی حالت کے لحاظ سے اسلامی خدمات سے دلچسپی رکھتے تھے۔منشی الٰہی بخش کو یہ بھی دعویٰ تھا کہ ان کو الہام اور کشف ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اسلامی خدمات اور مخالفینِ اسلام کے جواب میں سینہ سپر ہوتے دیکھ کر اور آپ کے تقویٰ و طہارت سے آگاہ ہوکر یہ گروہ آپ کی خدمت میں آیا اور تعلقات کو بڑھایا۔حضرت اقدس بھی منشی الٰہی بخش صاحب کی نسبت حسنِ ظن رکھتے تھے۔چنانچہ آپ نے جب منشی صاحب کی رہنمائی کے لئے خصوصاً اور عوام کے فائدہ کے لئے عموماً ضرورت الامام لکھی تو آپ نے اس میں تحریر فرمایا۔’’ان دنوں میں نے ماہ ستمبر ۱۸۹۸ء میں جو مطابق جمادی الا وّل ۱۳۱۶ھ ہے ایک میرے دوست جن کو میں ایک بے شرر انسان اور نیک بخت اور متقی اور پرہیز گار جانتا ہوں اور ان کی نسبت ابتداء سے میرا بہت نیک گمان ہے واللّٰہ حسیبہ مگر بعض خیالات میں غلطی میں پڑا ہوا سمجھتا ہوں اور اس غلطی کے ضرر سے ان کی نسبت اندیشہ بھی رکھتا ہوں ‘‘۔