مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 471

سے منشی صاحب موصوف کو یہ قسم ہے کہ اے منشی الٰہی بخش صاحب! آپ کو اس خدا ئے قادر ذوالجلال غیور کی قسم ہے کہ میری نسبت جس قدر آپ کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہامات ہوئے ہیں۔وہ سب کے سب معہ ترجمہ لکھ کر کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کر دیجئے۔میں آپ کو اے منشی الٰہی بخش صاحب! پھر اس قادر قدوس کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ان الہامات میں سے جو آپ نے حافظ محمد یوسف صاحب کو یا حضرت منشی عبدالحق صاحب کویا کسی اورکو سنائے ہیں یا ابھی سنائے نہیں، کوئی الہام مخفی نہ رکھئے۔میں پھر تیسری مرتبہ اے منشی الٰہی بخش صاحب! آپ کواس حیّ و قیّوم لَا اِلٰـہَ اِلاَّاللّٰہُ کے مصداق کی قسم دیتا ہوں جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف نازل کیا ہے اور قسم کا منشاء یہی ہے کہ آپ اسی کے منہ کے لئے، اسی کی عزت کے لئے، اسی کے نام کے ادب کے لئے و ہ کل الہامات جو میری نسبت آپ کو ہوئے ہیں۔اس خط کے پہنچنے سے ایک ہفتہ تک کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کرا دیجئے اور دس اشتہارمیری طرف بھی بھیج دیجئے اورکوئی الہام جو میری نسبت ہو چکا ہے۔مخفی نہ رکھئے اورمیں وعدہ کرتا ہوں کہ نعوذ باللہ میری طرف سے نہ کوئی آپ پر نالش ہو گی اور نہ کسی قسم کا بے جا حملہ آپ کی وجاہت و شان پر ہو گا۔میں جانتا ہوں کہ ایسے سب کام بد ذاتی ہیں۔میں صرف خد اتعالیٰ سے عقدہ کشائی چاہوں گا تا وہ لوگ جو مجھے مسرف اور کذّاب کا نام دیتے ہیں جوقرآن میں فرعون اور کسی اشدّ کافر کا نام ہے اور وہ لوگ (جو) میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ان میں اللہ تعالیٰ آپ فیصلہ کرے۔میں نے تین قسموں کے ساتھ آپ کی خدمت میں عرض کی ہے اور یہ سنت رسول اللہﷺاو ر تمام پیغمبروں کی ہے کہ جب قسم دے کر ان کوپوچھا جاتا تھا تو وہ اس جواب کو بغیر کم یا زیادہ کرنے کے اور بغیر کسی قسم کی خیانت و تحریف کے ٹھیک ٹھیک مطابق واقعہ بیان کر دیتے۔سو اب اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا آپ اپنے منہ سے قسم کھانے سے الگ رہیے مگر میرا مدّعا بھی اس طور سے حاصل ہو جائے گا۔ضرور نہیں کہ اظہار قسم کرو۔٭ ۱۵؍ مئی ۱۸۹۹ء دستخط۔مرزا غلام احمد ٭ الفضل یکم جولائی ۱۹۴۳ء صفحہ۲