مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 473 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 473

حضرت اقدس کو ان کی نسبت حسن ظن تھا اور ان کے انجام کے متعلق خطرہ اور اندیشہ بھی تھا کہ وہ غلطی ان کو ہلاک نہ کردے اور آخر ایسا ہی ہوا جس کا بہت ہی افسوس ہے۔یہاں ایک جملہ معترضہ کے طور پرمیں یہ بھی لکھ دینا چاہتا ہوں کہ یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ابتدائے عہد میں جو لوگ بظاہر بڑے اخلاص سے شریک ہوئے اور انھوں نے آپ کے کاموں میں امداد کیلئے ہاتھ بٹایا۔نخوت اور تکبر نے ان کی حالت کو بدل دیا اور وہ ع ’’ معلوم کرکے سب کچھ محروم ہوگئے‘‘۔ان میں بعض الہام و کشف کا دعویٰ کرتے تھے اور بعض رسول نما بنتے تھے۔اصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور کے مقابلہ میں جو بھی کھڑا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے علم کو اس مخالفت کے نتیجہ میں سلب کر لیتا ہے۔خدا خود قصہ شیطاں بیاں کرد است تا دانند کہ ایں نخوت کند ابلیس ہر اہل عبادت را منشی الٰہی بخش صاحب کو ابتداًء حضرت اقدس کی تائید اور تصدیق میں الہامات اور کشوف ہوتے تھے اور یہ الہامات وہ ایک رجسٹر میں لکھتے تھے۔میں ان لوگوں کے ساتھ ملتا جلتا اور ان کی مجالس میں بے تکلّف آتا جاتا تھا وہ اپنے الہامات اور رئویا سناتے۔یہ بھی وہ سنایا کرتے بلکہ اس رجسٹر میں لکھ رکھا تھا کہ ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ مرزا صاحب کو تو خدا نے بڑے بڑے درجات دئے ہیں مگر میرے واسطے کچھ نہیں تو الہام ہوا یعنی یہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ باوجود اس محبت کے جو وہ حضرت اقدس سے ظاہر کرتے تھے ان کے دل میں ایک مخفی حسد بھی تھا جس کو وہ محسوس نہ کرتے تھے اور اپنی ظاہری عبادت پر نازاں تھے جو بجائے اس کے کہ ان کے اندر خشیت الٰہی کو پیدا کرتی۔اس نے ایک قسم کی نخوت پیدا کردی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر سمجھنے لگے کہ مجھے امام الزماں کی بیعت کی ضرورت نہیں۔یہ تحریک اس حدتک پہنچی کہ انھیں ایک خواب آگیا اور وہ خود انہوں نے حضرت اقدس کو سنایا کہ ’’میں نے آپ کی نسبت کہا ہے کہ میں ان کی بیعت کیوں کروں بلکہ انھیں میری بیعت کرنی چاہیے‘‘۔کشوف اور الہامات میں حدیث النفس کو سمجھنے والے لوگ