مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 30
مکتوبات احمد ۳۰ جلد اول دکھلا دیا کہ خدا کی حکمت اس ضرورت کو تسلیم نہیں کرتی ہے تو آپ نے پہلے مقام کو چھوڑ کر اب دوسری طرف کا راستہ لیا اور بجائے ہماری تحریر کے تسلیم کرنے یا بشرط اعتراض کسی معقول حجت کے پیش کرنے کے اب اُس سلسلہ کو نجات کے مسئلہ کے ساتھ آلپیٹا ۔ یعنی اصل بحث کو جو الہام کی اصلیت پر تھی اُسے چھوڑ کر نجات کے مسئلہ کو لے بیٹھے اور اب اس نئے قضیہ کے ساتھ ایک نئی بحث کے اصولوں کو قائم کرنے لگے ۔ پھر اس پر ایک طرفہ یہ کہ آپ اخیر خط میں لکھتے ہیں کہ "اگر الہام کی حقیت میں جناب کو ہنوز کچھ تامل ہے تو بغرض قائم کرنے ایک مسلک بحث شقوق ثلاثہ متذکرہ بالا میں سے کسی ایک شق کو اختیار کیجئے اور پھر اس کا ثبوت دیجئے کیونکہ جب میں ضرورت الہام پر حجت قائم کر چکا تو اب از روئے قانون مناظرہ کے آپ کا بھی منصب ہے جو آپ کسی حیلہ قانونی سے اس حجت کو توڑ دیں۔ گویا یک نہ شد دو شد ۔ آپ نے ضرورت الہام پر جو حجت قائم کی تھی وہ تو جناب من ! میں ایک دفعہ توڑ چکا اور اُس فرضی ضرورت پر جو عمارت الہام کی آپ نے قائم کی تھی اسے بے بنیاد ٹھہرا چکا مگر افسوس ہے ایک عرصہ دراز کی عادت کے باعث اُس کی تصویر ہنوز آپ کی نظروں میں سمائی ہوئی ہے اور وہ عادت باوجود اس کے کہ آپ کو اس بحث سے صرف اظہارحق منظور ہے، مگر پھر آپ کو حقیقت کے پاس پہنچنے میں سد راہ ہے۔ تحقیق حق اُس وقت تک اپنا قدم نہیں جاسکتی ہے جب تک کہ ایک خیال جو عادت میں داخل ہو گیا ہے اُس کو ایک دوسری عادت کے ساتھ جدا کرنے کی مشق حاصل نہ کی جائے ۔ کسی عیسائی کا ایک چھوٹا سا لڑکا بھی گنگا کے پانی کو صرف دریا کا پانی سمجھتا ہے اور کے کا اس سے زیادہ گناہ سے نجات وغیرہ کا خیال اس سے متعلق نہیں کرتا ۔ مگر ایک پرانے خیال کے معتقد بڑھے ہندو کے نزدیک اس پانی میں ایک غوطہ مارنے سے انسان کے گل گناہ دفع ہو جاتے ہیں ۔ ایک عیسائی کے نزدیک خدا کی تثلیث برحق ہے مگر ایک مسلمان یا برا ہمو کے نزدیک وہ بالکل لغو ہے ۔ اگر کسی ایسے ہندو یا عیسائی سے بحث کر کے اس کے خیال کی لغویت کو ظاہر بھی کر دو ( کہ جس کا ظاہر کرنا کچھ مشکل بات نہیں ) مگر وہ اس کی لغویت کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ حتی کہ جب جواب سے عاجز آتا ہے تو یہ کہہ کر کہ گو میں ٹھیک جواب نہیں دے سکتا ہوں مگر میں اُس کا قائل ہوں اور دل سے اُسے ٹھیک جانتا ہوں۔ یہ دل کی گواہی اس کی وہی عادت ہے کہ جو حکماء کے نزدیک طبیعت ثانی -