مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 441
مکتوبات احمد ۴۴۱ جلد اول مولوی بشیر صاحب ایسے مخالف نہ تھے جیسے محمد حسین بٹالوی وغیرہ بلکہ وہ کسی قد ر ا دب حضرت کا ملحوظ رکھتے تھے۔ ان پر صداقت کھل چکی تھی۔ مگر بعض دوسرے معاشی اسباب ان کی راہ میں روک تھے۔ چنانچہ جب مباحثہ کے لئے حضرت اقدس کی قیام گاہ پر آئے ، اپنے آنے کی اطلاع کی تو حضرت اقدس بالا خانہ سے نیچے آئے اور مولوی صاحب نے آگے بڑھ کر مودبانہ سلام علیکم کہا اور بے اختیار آپ سے معانقہ کے لئے لپٹ گئے ۔ حضرت تو اسکے عادی نہ تھے ۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب بیان کرتے تھے کہ حضرت کھڑے رہے اور مولوی صاحب لیٹے رہے اور مولوی صاحب بھی آخر بیٹھ گئے اور حضرت اقدس بھی تشریف فرما ہوئے ۔ میں نے اس واقعہ کو اس لئے نقل کیا ہے کہ مجھ پر ان کے متعلق یہی اثر تھا کہ وہ اندر سے مخالفت کا جذبہ نہیں رکھتے ۔ وہ اب مر چکے والله حسيبه۔ پھر جب ۱۹۰۵ء میں حضرت اقدس دہلی تشریف لے گئے میں بھی ساتھ تھا ۔ مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی نے مولوی بشیر صاحب کو ملاقات کے لئے ایک خط لکھا اور میں خود وہ خط لے کر گیا ۔ مولوی صاحب نے خلوت ہی میں مجھے کہا کہ اس وقت ملاقات مصلحت کے خلاف ہے۔ میری طرف سے بہت بہت سلام دیا جائے اور میری معذوری پر معافی طلب کی جائے۔ میں نے ان میں شوخی اور گستاخی نہ پائی تھی ۔ انہیں ایام میں کچھ خطوط اور رقعہ جات ان کو لکھے گئے تھے۔ میں عزیز مکرم مہاشے فضل حسین صاحب کے لئے بہت دعا کرتا ہوں کہ انہوں نے ان رقعہ جات کو مخالفین کے لٹریچر میں سے لے کر محفوظ کر دیا۔ جَزَاءهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ ( عرفاني الكبير ) یہ خطوط حضور علیہ السلام نے ۱۸۹۱ء میں رقم فرمائے تھے جب کہ حضور دہلی میں قیام فرما تھے اور مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی کے ساتھ مناظرہ کی تجویز ہو رہی تھی ۔ یہ خطوط مخالفین نے حضور علیہ السلام اور مولوی محمد بشیر صاحب کے مابین تحریری مناظرہ کی تمہید میں شائع کئے ہیں جس کا نام الحـق الـصــريـح في اثبات حيـات المسیح ہے ( خاکسار ملک ) فضل حسین کا رکن صیغه تالیف و تصنیف ۔