مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 442

خمکتوب نمبر ۱۳ حضرت حجۃ اللہ کا خط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مکرم مولوی محمد بشیر صاحب بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ جس کا لفظ لفظ اخلاص و تقویٰ سے بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے۔لودہیانہ میں مجھ کو ملا مگر چونکہ میں اتفاقاً ضلع علیگڑھ کی طرف چلا گیا تھا اور پھر واپس آ کر ۱۹؍ اپریل ۸۹ء کو قادیان کی طرف چلا آیا اِس لئے جواب لکھنے سے مجبور رہا۔جو کچھ آپ نے لکھا ہے بالکل سچ لکھا ہے جس سے خلوص اور طلب حق کی بُو آتی ہے۔اللہ جلّشانہٗ نے قرآن مجید میں اولیاء اللہ کی پانچ علامتیں لکھی ہیں۔جب تک وہ پانچوں علامتیں کسی میں نہ پائی جائیں تب تک وہ ولی اللہ نہیں ہو سکتا اور قبل اس کے جو کسی کی ولایت کو شناخت کیا جائے اُس سے بیعت کرنا جائز نہیں لیکن اولیاء اللہ کو شناخت کرنا ہر ایک آنکھ کا کام نہیں۔اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں کہ  ۱؎ کچھ شک نہیں کہ اولیاء اللہ میں خوارق و آیات بینات پائی جاتی ہیں۔لیکن جب تک خدا تعالیٰ نہ چاہے وہ موجب ہدایت نہیں ہوسکتے۔ہاں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی ولی کے خوارق و آیات پر اطلاع پاوے اُس پر لازم ہے کہ دو طریقوں میں سے ایک طریق اختیار کرے۔(۱) یا یہ کہ نہایت درجہ کا دوست بن جاوے۔(۲) یا یہ کہ نہایت درجہ کا دشمن بن جاوے۔کیونکہ جب تک دوستی یا دشمنی انتہا تک نہ پہنچے تب تک اس قوم کے خواص معلوم نہیں ہو سکتے۔آپ جو طالب صادق ہیں امید ہے کہ دوستی میں ترقی کریں گے خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور اپنی طرف سے قوت و بصیرت بخشے۔آمین ثم آمین ٭ والسلام علی من اتبع الہدٰی ۲۴؍ اپریل ۸۹ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۱؎ الاعراف: ۱۹۹ ٭ الحکم ۳۰؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۴