مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 440
مولوی محمد بشیر سہوانی ثُمَّ بھوپالی کے نام (تعارفی نوٹ) مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی دراصل سہوان کے باشندے تھے اور بہ سلسلہ ملازمت بھوپال میں نواب صدیق حسن خاں صاحب کے علماء کے زُمرہ میں ملازم تھے۔چونکہ نواب صاحب خود اہلِ حدیث تھے۔اس لئے انہوں نے مشہور علماء اہل حدیث کو اپنے سلسلہ تالیفات کے لئے جمع کر لیا تھا۔چنانچہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امرو ہی بھی اسی ذیل میں تھے اور مولوی بشیر صاحب سے ان کے گہرے تعلقات تھے۔مولوی بشیر صاحب ایک پستہ قد گندم گوںتھے۔اس میںکچھ شبہ نہیں علوم عربیہ درسیہ میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب اپنے دعویٰ مسیحیت کا اعلان فرمایا تو مولوی بشیر صاحب اور مولانا سید محمد احسن صاحب میں خلوت میں تبادلۂ خیالات ہوتا رہا۔مولوی سید محمد احسن صاحب اثباتِ دعویٰ کا پہلو لیتے تھے اور مولوی بشیر صاحب اس پر اعتراض کرتے تھے۔مگر یہ مناظرہ مخالفت کے لئے نہ تھا بلکہ احقاقِ حق کے لئے۔آخر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ حضرت اپنے دعویٰ میںصادق ہیں۔مولانا سیّد محمد احسن صاحب نے تو اَخلاقی جرأت سے کام لے کر بیعت کر لی مگر مولوی بشیر صاحب متأمّل رہے۔جب بھوپال کا سلسلہ ملازمت ختم ہو گیا تو مولوی صاحب بھوپال سے دہلی آکر جماعت اہلحدیث کے امام ہو گئے اور یہ چیز ان کی راہ میں بڑی روک ہو گئی۔۱۸۹۱ء کی آخری سہ ماہی میں حضرت اقدس لودہانہ سے دہلی تشریف لے گئے۔جب مولوی سید نذیر حسین صاحب جو شیخ الکل کہلاتے تھے مقابلہ اور مباحثہ کے لئے نہ آئے۔حیلہ سے اس پیالہ کو ٹلا دیا تو لوگوں نے مولوی بشیر صاحب کو بحث پر آمادہ کیا۔جہاں تک حقیقت ہے وہ کرہاً آمادہ ہوئے۔ان کے مباحثہ کے حالات رسالہ الحق دہلی (سیالکوٹ) میں شائع ہو گئے تھے۔مولوی صاحب آنے کو تومیدان میں آئے مگر نون ثقیلہ کی بحث میں اُلجھ کر رہ گئے۔جہاں تک میرا ذاتی علم ہے