مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 25
ہے۔دوم بشرط مناسب استعمال میں نہ لانے یا نہ لا سکنے کی اگر غلطی کھاتاہے تو کوئی دوسرا جسے اس کے ٹھیک استعمال کا موقع مل جاتا ہے وہ اس غلطی کو رفع کر دیتا ہے چنانچہ انسانی معلومات کی کل تاریخ اس قسم کے دلچسپ سلسلہ سے پُر ہے اور اس سلسلہ میں جو ہزاروں برس کاتجربہ ظاہر کرتا ہے کسی محقق کے لئے اس نتیجہ پر پہنچنا بہت دشوار نہیں رہتا ہے کہ انسان فی ذاتہٖ تمام ضروری اعضاء جسمانی اور قواعد دماغی و اخلاقی سے مشرف ہو کر اس دنیا میں (جو اس کے تمام نیچر کے حسب حال اور باہمی ربط و علاقہ کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے) آپ اپنا راستہ ڈھونڈھے اور خو داپنی جسمانی روحانی بھلائی اور بہتری کے وسائل کا علم حاصل کرے اور فائدہ اُٹھائے۔پس اس قانون قدرت کو پس انداز کر کے یا حکیم حقیقی کی دانائی کے خلاف اگر ہم ایک فرضی دلیل قائم کریں کہ چونکہ انسان کو اپنے چاروں طرف دیکھنا ضروریات سے ہے اور دیکھنے کیلئے جو دو آنکھیں اس کے چہرے پر قائم کی گئی ہیں۔وہ جس وقت سامنے کی اشیاء کے دیکھنے میں مصروف ہوتی ہیں اُس وقت پیچھے سے اُس کے اگر اُس کی ہلاکت کا سامان کیا گیا ہوتو وہ بشرط آگے کی دو ہی آنکھوں کے ہونے کے ضرور ہے کہ پیچھے کے حال کے دیکھنے سے محروم رہے۔پس ممکن نہ تھا کہ خدا جو رحیم اور کریم اور حکیم ہے وہ اسے سر کے پیچھے کی طرف بھی دو آنکھیں ایسی عطا نہ کرتا کہ جس سے وہ مذکورۂ بالا خطرہ سے نجات پانے کی تدبیر کر سکتا۔پس جبکہ سر کے پیچھے کی طرف دو آنکھوںکے ہونے کی ضرورت ہے لہٰذا لازم ہوا کہ خدا اپنے بندوں کی مزید حفاظت کی غرض سے ایسی آنکھیں عطا کرے یا اسی قسم کی ایک اور دلیل ہم یہ قائم کریں کہ چونکہ انسان کی عقل خطا کرتی ہے اور اسے یہ علم بھی آج تک حاصل نہیں ہے کہ بمبئی سے جس جہاز پر وہ ولایت کو روانہ ہوتا ہے اس کی روانگی کی تاریخ سے ہفتہ یا ڈیڑھ ہفتہ بعد جو خطرناک طوفان سمندر میں آنے والا ہے اور جس میں اس کا جہاز غرق ہونے کو ہے اسے پہلے سے جان سکے۔پس جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے اپنے تئیں طوفان کے مہلک اور خوفناک اثر سے محفوظ کر سکتا ہے اور وہ خدا (جو رحیم و کریم اور ہر ایک سہو و خطا سے مبرا اور ہر امر کی حقیقت پر واقف ہے) بذریعہ اپنے نج کے پیغام کے فوراً اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر اپنی جان کو ہلاکت کے طوفان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔پس مقتضائے حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اُس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً وہ ہم کو