مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 24
صورت میں لاتا جاتا ہے اور جس قدر اس کے مناسب استعمال کی تمیز پیدا کرتا جاتا ہے اسی قدر وہ نیچرکی تحقیقات میں زیادہ سے زیادہ تر صحت کے ساتھ اپنی معلومات کے حصول میں کامیاب ہوتا جاتا ہے۔اس مختصر بیان سے میں یقین کرتا ہوں کہ آپ اس بات کے تسلیم کرنے سے انکار نہ کریں گے کہ انسان سے اپنی تحقیقات میں اگرچہ غلطی کرناممکنات سے ہے۔مگر یہ نہیں کہ ہر ایک معلومات میں اس کے غلطی موجود ہے بلکہ بہت کچھ معلومات اس کی صحیح ہیں اور ظاہر ہے کہ جن معلومات میں اس کی غلطی موجود نہیں ہے وہ جس قاعدہ یا طریق کے برتاؤ کے ساتھ ظہور میں آئی ہے وہ بھی غلطی سے ّمبرا تھا۔کیونکہ غلط قاعدہ کے عملدرآمد سے کبھی کوئی صحیح نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ہے۔پس جو معلومات اس کی صحیح ہے اس میں اسے حقیقت کے حصول کے لئے جو سامان نیچر نے اُسے عطا کیا تھا اس کا صحیح اور مناسب استعمال ظہور میں آیا مگر جہاں اس نے اپنی معلومات میں غلطی کھائی ہے وہاں اس کی مناسب نگہداشت نہیں ہوئی۔گویا ایک شخص جس کے پاس دُور بین موجود ہے اور اُس کی نلی بھی وہ کھولنا جانتا ہے مگر ٹھیک فوکس نہ پیدا کرنے کے باعث جس طرح مقابل کی شَے کو یا تو دیکھنے سے محروم رہتا ہے یا بشرط دیکھنے کے صاف اور اصل حالت میں نہیں دیکھ سکتا ہے۔ایک شخص اسی طرح اپنی تحقیقات میں حسبِ مذکورہ بالا نیچری سامان کی دُوربین کھولتے وقت مناسب درجہ کے فوکس میں قائم کرنے سے رہ جاتا ہے تو وہ یا تو حقیقت کی تصویر کے دیکھنے سے ہی محروم ہو جاتا ہے یا وہ تصویر جیسی ہے ویسی نہیں دیکھ٭ سکتا مگر جو شخص برخلاف اس شخص کے صحیح فوکس کے پیدا کرنے کے قابل ہوتا ہے وہ پہلے شخص کی غلطی کو دریافت کر لیتا ہے اور حق الامر کو پہنچ جاتا ہے۔اب اس بیان سے (کہ جو نہایت سیدھا اور صاف ہے) یہ بخوبی ثابت ہے کہ اوّل تو انسان بعض صورتوں میں اپنے نیچری سامان کے مناسب استعمال کے ساتھ پہلے ہی حق امر کو دریافت کرلیتا دنیا میں جیسے ہاتھ پیر اور صحت بدنی رکھتے ہوئے بھی ہزاروں اور لاکھوں اشخاص بِلامشقت سستی اور کاہلی کے ساتھ ہی شکم پُری کرنے کو مستعد رہتے ہیں ویسے ہی معلومات کے متعلق بھی لاکھوں اور کروڑوں اشخاص باوجود تحقیقات کیلئے نیچری سامان سے مشرف ہونے کے پھر اپنے دماغ کو پریشان کرنا نہیں چاہتے ہیں اور جن باتوں کی اصلیت کو اپنے تھوڑے سے فکر سے بھی معلوم کر سکتے ہیں ان کے لئے بھی خود تکلیف اُٹھانا نہیں چاہتے ہیں اور محض اندھوں کی طرح ایک ہی تقلید کے ساتھ مطلب برآری کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آج تک ایک کی غلطی لاکھوں کروڑوں روحوں پر مؤثر دیکھی جاتی ہے۔