مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 404
مکتوبات احمد ۴۰۴ جلد اول در پے واسطہ حاصل کر نے پیشگوئیوں کے پھرتے رہتے ہیں اور اس وقت کچھ لحاظ اتباع سنت ہونے یا نہ ہونے اس شخص کا نہیں کرتے بلکہ خلاف مذہب کے ایسے لوگوں پر خیال نہیں کرتے ۔ جب ہم ایام گزشتہ میں جس کو سو برس نہیں گزرے جن کے دیکھنے والے اب تک موجود ہیں ۔ خاندان شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی اور ان کی اولا د سید احمد صاحب مرحوم بریلوی کو دیکھ سن چکے ہیں اور ان کی کتابوں کو معائنہ کر چکے ہیں اور اس میں اس قسم کے الہامات ان کے پڑھ چکے ہیں پھر ہم اب کسی شخص پر انکار نہ کریں جن پر اس قسم کے حالات وارد ہوں اور معلوم ہوں کیونکر انکار کے مستحق ہو سکتے ہیں ۔ جب عموماً اس خاندان کی افضلیت اور باکمال ہونے کے قائل ہیں ۔ یہ قائل ہونا خاص کسی پر منحصر نہیں ۔ اہل اسلام ہندوستان کیا ، اہلِ ہنود بھی تعریف اور توصیف سے یاد کرتے ہیں اور اعتقاد اپنا جتلاتے ہیں ۔ اس عاجز نے جب سے ہوش پائی ہے اسی خاندان کو اپنا پیشوا گردانا ہے۔ اگر چہ بزرگان عاجز کے بھی ایسا خیال کرتے رہے اور محبت پوری بجالاتے رہے۔ ان کی تصنیفات اور تالیفات جہاں تک ممکن ہوئی مطالعہ کرتا رہا ہے اور جوان کے خاندان کا آدمی مل سکا ان سے صحبت کا فیض حاصل کرتا رہا ہے اور اقوال پسندیدہ اور افعال حمیدہ کو ذہن نشین کر کے اس زمانہ کے اشخاص واعظ اور علماء کے اقوال افعال کے قبول کرنے کے لئے انہیں کو معیار مقرر کیا ہے چونکہ آپ کی کتاب جو مطالعہ کی گئی ہے اسے ان کے طریقہ اور خیالات دینی سے متفق پایا اس واسطے اس کو ملنا اور تحسین آفرین کی صدا دل سے بلند ہوئی ہے اور آپ کے اقوال کو معتبر تصور کرتا ہوں ۔ جو زبانی مولوی عبدالقادر خلف عبد الله لودیا نوی نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ کو مولوی سید احمد صاحب نے جو دیو بند کے قریب رہتے ہیں ، جواں صالح فرمایا ، ان کی درخواست پر توجہ نہیں فرمائی ۔ اس سے بھی مجھ کو آپ کی تصدیق کی تقویت ملی ہے کہ وہ لوگ بھی صاحب ظاہر و باطن ہیں اور ان کا خاندان بھی ہندوستان میں لاثانی ہے۔ ان پر انوارالہی کا اثر پایا جاتا ہے۔ یہ بھی ظاہر کرنا کچھ نقص نہیں معلوم ہوتا کہ میں اپنے حال پر اور اہل دین کے خیالات پر جو بندہ کو معلوم ہوئے ہیں کہ جو عموماً حالات مخالفان زمانہ دیکھ سن کر فکر کرتے ہیں تو اس وقت ایسے سوالات دل میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کے جوابات بھی اس وقت پیدا ہو جاتے ہیں جس کو آپ نے بشرح اور مفصل