مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 384

مکتوبات احمد ۳۸۴ مکتوب نمبر 1 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از طرف احقر عباد عائذ بالله الصمد جلد اول به مخدومی مکرمی مولوی نور محمد صاحب - سَلَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - اما بعد - نامه گرامی آں مخدوم پہنچا۔ یہ عاجز باعث کم فرصتی و مشغولی ملاقات بعض احباب و نیز بوجہ ضعف طبیعت اب تک جواب لکھنے سے مقصر رہا اور اب بھی اس قدر طاقت و فرصت نہیں کہ مفصل لکھوں ۔ صرف مجمل طور پر عرض کرتا ہوں کہ اگر چہ یہ عاجز اپنی ذاتی حالت کی رو سے فی الواقع نہایت آلوده دامن اور ناچیز اور بیچ ہے اور جس قدر بدظنی کی جائے وہ تھوڑی ہے۔ من آنم کہ من دانم ۔ لیکن اگر رنج ہے تو صرف اس قدر ہے کہ جس بنا پر آپ اور آپ کے ان بزرگوں نے جن کے رویا اور کشوف آپ کے زعم خام میں قطعی اور یق اور یقینی ہیں ۔ جن میں وحی انبیاء کی طرح ایک ذرہ خطا اور غلطی کی گنجائش نہیں ہے، اس احقر عباد پر کذب اور افترا کا الزام لگایا ہے اور اپنے گمان میں بہت کچھ فساد اور شرک اور کفر کی حالت کو بہ نسبت ایں احقر یقین کر لیا ہے ۔ ایسا یقین مسلمانوں کی حالت سے بعید ہے ۔ اَللَّهُمَّ أَصْلِحُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ( آپ کو اور آپ کے بزرگوار کو بڑی وحشت میں اس خواب نے ڈالا ہے کہ جو نقول آپ کے اس بزرگوار نے دیکھی ہے جس میں ان کے متخیلہ پر ایسا ظاہر ہوا کہ گویا یہ عاجز ایک جھوٹہ پر سوار ہے اور گلے میں زنا ر ہے ۔ جھوٹے کے ڈم کی طرف منہ ہے اور پھر اس بزرگ نے یہ دیکھا کہ یہ عاجز ایک ریچھ کی کھال پر بیٹھا ہوا ہے اور اس پر قرآن شریف رکھا ہوا ہے۔ اور پھر ایک دوسرے بزرگ نے بقول آپ کے اس عاجز کی بینائی میں فرق دیکھا۔ ان دونوں خوابوں کی صورت پر نظر کر کے سیرت حسن ظن اسلامی کو آپ نے چھوڑ دیا اور جو کچھ تمہارے رب کریم نے تاکید فرمائی ہے کہ ظن المومنین والمومنات کا اپنے بھائیوں سے بخیر ہونا چاہئے ۔ اس تاکید کو یک لخت بھول گئے اور بڑے دعوے سے زبان کھولی کہ ضرور دال میں صلى الله