مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 383

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ (تمہیدی نوٹ) اللہ تعالیٰ کاشکر اور حمد ہے کہ اس نے اس خاکسارکو توفیق بخشی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکتوبات کی چھٹی جلد کو ترتیب دے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔اس جلد میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان مکاتیب کو جمع کرنے کی سعی کی ہے جو آپ نے مخالف الرائے علماء ومشائخین اور غیراحمدی مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً لکھے۔یہ مکاتیب کبھی تو بعض کے استفسارات کے جواب میں لکھے گئے اور کبھی اتمامِ حجت اور تبلیغِ حق کیلئے۔میںنے کوشش کی ہے کہ مکتوب الیہم کے متعلق ایک مختصرسا نوٹ دے دوں تاکہ تاریخ سلسلہ میں ان کی حیثیت ظاہر رہے۔مکتوباتِ احمدیہ کے سلسلہ میں اس وقت تک پانچ جلدیں نو نمبروں میں شائع ہو چکی ہیں اوراس لحاظ سے یہ دسویں جلد ہے۔ایک جلد متفرقات کی ہو گی اور اس طرح مکتوبات کے سلسلہ کی تکمیل ہو جائے گی۔وَباِللّٰہِ التَّوْفِیْقُ۔مکتوبات کی جمع وترتیب بھی دراصل سیرۃ و سوانح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اہم حصہ ہے۔مجھے اعتراف ہے کہ اس کام کومیں متواتر اورمسلسل جاری نہیں رکھ سکا۔میں اپنی کمزوریوں سے ناواقف نہیں مگر میں ایک یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس غفلت اور کوتاہی کے لئے جماعت بھی منفرداً و مجتمعا ذمہ دار ہے اِلاَّمَاشَآئَ اللّٰہُ اس لئے کہ ا س نے اس کام کی اہمیت کو ابھی تک نہیں سمجھا۔بہر حال میں اپنے ذوق اور استعداد کے موافق اس سے غافل نہیں رہا اور یہ اسی جذبہ کی ایک حقیر کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ قبول کرے آمین۔خاکسارعرفانی کبیر از سکندر آباد دکن ۲۸؍ فروری ۱۹۵۰ء مولوی نور محمد صاحب کے نام (تعارفی نوٹ) لکھوکے ضلع فیروز پور میں مولوی محمد صاحب لکھوکے والے ایک مشہور عالم خاندان کے رکن تھے۔انہوںنے پنجابی زبان میں بعض کتابیں ’’احوال الآخرت‘‘ وغیرہ تصنیف کی تھیں اور کچھ قرآن مجید کی تفسیر بھی لکھی۔اس خاندان کے بعض افراد کو خواب بینی یا الہام کا بھی دعویٰ تھا۔اسی خاندان کے ایک فرد مولوی نور محمد صاحب بھی تھے۔میں نے ان کو دیکھا ہے۔یہ مکتوب جو میں نیچے درج کررہا ہوں، انہیں کے نام ہے۔میں نے جب ان کو دیکھا تو وہ سلسلہ کے خلاف ضلع گورداسپور میں دورہ کررہے تھے اور وہ قادیان بھی آئے اور انہیں یہ معلوم تھاکہ حضرت اقدس کے ابنائے عم آپ کے مخالف ہیں۔اس لئے انہیں بڑی امیدیں تھیں۔میرے سامنے کا واقعہ ہے اور میں بحمد اللہ عینی شاہد ہوں۔وہ ایک گھوڑی پر سوار تھے، مسجد مبارک کے سامنے ایک چبوترہ پر مرزا نظام الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے، ان سے ہی اس نے دریافت کیا کہ نمبردار مرزا نظام الدین صاحب سے ملنا ہے۔مرزا صاحب نے دریافت کیا۔کیا کام ہے؟ میں ہی ہوں۔اس نے کہا کہ یہاں مرزا نے دعویٰ کیا ہے میں اس کی مخالفت کرنے آیا ہوں۔مرزا نظام الدین صاحب نے ہنس کر کہاکہ یہ سمجھا ہوگا کہ ہم ان کے مخالف ہیں۔یہاں کوئی تقریر نہیں ہوسکتی۔روٹی کھانی ہے تو منگوا دیتا ہوں۔ورنہ سیدھے چلے جاؤ۔تمہارا کچھ کام نہیں۔اس پر وہ سیدھا بازار کے راستہ چلا گیا۔بازار میں بھی کسی نے پوچھا نہیں۔میں نے مرزا نظام الدین صاحب کے جواب کو نہایت نرم الفاظ میں لکھا ہے ورنہ اُنہوں نے تو نہایت خشونت سے اپنے محاورہ میں ان سے کلام کیا تھا۔پس یہ وہ نورمحمد صاحب ہیں۔(عرفانی کبیر)