مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 359
مکتوبات احمد ۳۵۹ جلد اول مکتوب نمبر ۲۲ ایک روحانی نشان جس سے ثابت ہوگا کہ یہ عاجز صادق اور خدا تعالیٰ سے مؤید ہے یا نہیں اور شیخ محمد حسین بٹالوی اس عاجز کو کا ذب اور دجال قرار دینے میں صادق ہے یا خود کا ذب اور دجال ہے عاقل سمجھ سکتے ہیں کہ منجملہ نشانوں کے حقائق اور معارف اور لطائف حکمیہ کے بھی نشان ہوئے ہیں جو خاص ان کو دیئے جاتے ہیں جو پاک نفس ہوں اور جن پر فضل عظیم ہو جیسا کہ آیت لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ اور آیت وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے۔ سو یہی نشان میاں محمد حسین کے مقابل پر میرے صدق اور کذب کے جانچنے کے لئے کھلی کھلی نشانی ہوگی اور اس فیصلہ کے لئے احسن انتظام اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مختصر جلسہ ہو کر منصفان تجویز کردہ اس جلسہ کے چند سورتیں قرآن کریم کی جن کی عبارت استنی ۸ آیت سے کم نہ ہو۔ تفسیر کے لئے منتخب کر کے پیش کریں اور پھر بطور قرعہ اندازی کے ایک سورۃ اُن میں سے نکال کر اسی کی تفسیر معیا ر امتحان ٹھہرائی جائے اور اس تفسیر کے لئے یہ امر لازمی ٹھہرایا جاوے کہ بلیغ فصیح زبان عربی اور متقی عبارت میں قلمبند ہو اور دس جز و سے کم نہ ہو، اور جس قد راس میں حقائق اور معارف لکھے جائیں وہ نقل عبارت کی طرح نہ ہو بلکہ معارف جدیدہ اور لطائف غریبہ ہوں ۔ جو کسی دوسری کتاب میں نہ پائے جائیں اور بایں ہمہ اصل تعلیم قرآنی سے مخالف نہ ہوں بلکہ ا الواقعة : ٨٠ البقرة : ۲۷۰