مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 359

ان کی قوت اور شوکت ظاہر کرنے والے ہوں٭ اور کتاب کے آخر میں سو شعر لطیف بلیغ اور فصیح عربی میں نعت اور مدح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بطور قصیدہ درج ہوں اور جس بحر میں وہ شعر ہونے چاہئیں وہ بحر بھی بطور قرعہ اندازی کے اسی جلسہ میں تجویز کیا جائے اور فریقین کو اس کام کے لئے چالیس دن کی مہلت دی جائے اور چالیس دن کے بعد جلسہ عام میں فریقین اپنی اپنی تفسیر اور اپنے اپنے اشعار جو عربی میں ہوں گے سنا دیں۔پھر اگر یہ عاجز شیخ محمد حسین بٹالوی سے حقائق اور معارف کے بیان کرنے اور عبارت عربی فصیح و بلیغ اور اشعار آبدار مدحیہ کے لکھنے میں قاصر اورکم درجہ پررہا یا یہ کہ شیخ محمد حسین اس عاجز سے برابر رہا تو اسی وقت یہ عاجز اپنی خطا کا اقرار کرے گا اور اپنی کتابیں جلا دے گا اور شیخ محمد حسین کا حق ہو گاکہ اس وقت اس عاجز کے گلے میں رسّہ ڈال کر یہ کہے کہ اے کذّاب! اے دجال! اے مفتری! آج تیری رُسوائی ظاہر ہوئی۔اب کہاں ہے وہ جس کو ُتو کہتا تھا کہ میرا مددگار ہے۔اب تیرا الہام کہاں ہے اور تیرے خوارق کدھر چھپ گئے۔لیکن اگر یہ عاجز غالب ہو اتو پھر چاہیے کہ میاں محمد حسین اسی مجلس میں کھڑے ہوکر ان الفاظ سے توبہ کر ے کہ اے حاضرین! آج میری رو سیاہی ایسی کھل گئی کہ جیسا آفتاب کے نکلنے سے دن کھل جاتا ہے اور اب ثابت ہوا کہ یہ شخص حق پر ہے اور میں ہی دجال تھا اور میں ہی کذاب تھا اور میں ہی کافر تھا اور میں ہی بے دین تھا اور اب میں توبہ کرتا ہوں۔سب گواہ رہیں۔بعد اس کے اسی مجلس میں اپنی کتابیں جلا دے اور ادنیٰ خادموں کی طرح پیچھے ہو لے۔۱؎ صاحبو! یہ طریق فیصلہ ہے جو اس وقت میں نے ظاہر کیا ہے۔میاں محمد حسین کو اس پر سخت اصرار ہے کہ یہ عاجز عربی علوم سے بالکل بے بہرہ اور کو دّن اور نادان اور جاہل ہے۲؎۔اور علم قرآن سے ٭ اگر کسی کے دل میںیہ خدشہ گذرے کہ ایسے جدید حقائق و معارف جو پہلی تفاسیر میں نہ ہوں وہ کیونکر تسلیم کئے جا سکتے ہیں اور وہ انہیں پہلی ہی تفاسیر میں محدود کرے تو اُسے مناسب ہے کہ عبارت ذیل کو ملاحظہ کرے۔’’ثم رایتُ کلَّ اٰیۃٍ وکلّ حدیثٍ بحرا مواجا فیہ من اسرارٍ مالوکتبت شرحُ سرٍّ وَاحدٍ منھا فی مجلدات لما احاطتہٗ ورئیت الاسرارَ الخفیۃَ مبتذلۃً فی اشارات القران والسنّۃ فقضیتُ العجبَ کلَّ العجب’’ (فیوض الحرمین۔صفحہ۴۲ (تصنیف حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی) ۱؎ شیخ بٹالوی کو اختیار ہوگا کہ میاں شیخ الکل اور دوسرے تمام متکبر ملاّؤں کو ساتھ ملا لے۔منہ ۲؎ دیکھو ان کا فتویٰ نمبر۴ جلد۱۳ صفحہ۱۱۵