مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 360

بالکل بے خبر ہے اور خدا ئے تعالیٰ سے مدد پانے کے تولائق ہی نہیں۔کیونکہ کذّاب اور دجال ہے اور ساتھ اس کے ان کو اپنے کمال علم اور فضل کا بھی دعویٰ ہے کیونکہ ان کے نزدیک حضرت مخدوم مولوی حکیم نورالدین صاحب جو اس عاجز کی نظر میں علامہ عصر اور جامع علوم ہیں۔صرف ایک حکیم اور اخویم مکرم مولوی سید محمد احسن صاحب جو گویا علم حدیث کے ایک پتلے ہیں صرف ایک منشی ہیں۔پھر باوجود ان کے اس دعوے کے اور میرے اس ناقص حال کے جس کو وہ بار بار شائع کر چکے ہیں، اس طریق فیصلہ میں کون سا اشتباہ باقی ہے اور اگروہ اس مقابلہ کے لائق نہیں اور اپنی نسبت بھی جھوٹ بولا ہے اور میری نسبت بھی۔اور میرے معظم اور مکرم دوستوں کی نسبت بھی تو پھر ایسا شخص کسی قدر سزا کے لائق ہے کہ کذّاب اور دجال تو آپ ہو اور دوسروں کو خواہ نخواہ دروغ گو کر کے مشتہر کرے اوریہ بات بھی یاد رہے کہ یہ عاجز در حقیقت نہایت ضعیف اور ہیچ ہے گویا کچھ بھی نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ متکبر کا سر توڑے اور اس کو دکھاوے کہ آسمانی مدد اس کا نام ہے۔چند ماہ کا عرصہ ہوا ہے جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون میں نے میاں محمد حسین کا دیکھا جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذّاب اور دجال اور بے ایمان اور بایں ہمہ سخت نادان اور جاہل اور علومِ دینیہ سے بے خبر ہے۔تب میں جنابِ الٰہی میں رویا کہ میری مدد کر تو اس دُعا کے بعد الہام ہواکہ۱؎ ْ یعنی دُعا کرو کہ میں قبول کروں گا۔مگر میں بالطبع نافر تھا کہ کسی کے عذاب کے لئے دُعا کروں۔آج جو ۲۹؍ شعبان ۱۳۱۰ھ ہے۔اس مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دعا کے لئے دل کھول دیا۔سو میں نے اس وقت اسی طرح سے رقّتِ دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کے لئے دعا کی اور میرا دل کھل گیا اور میں جانتا ہوں کہ قبول ہو گئی اور میں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کومیاں بٹالوی کی نسبت ہو اتھا کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ ۲؎ وہ اسی موقعہ کے لئے ہوا تھا۔میںنے اس مقابلہ کے لئے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔اب صاحبو! اگر میںاس نشان میں جھوٹا نکلا یا میدان سے بھاگ گیا یا کچے بہانوں سے ٹال دیا تو تم سارے گواہ رہو کہ بیشک میں کذّاب اور دجال ہوں۔تب میں ہر یک سزا کے لائق ٹھہروں گا۔کیونکہ اس موقعہ پر ہریک پہلو سے میرا کذب ثابت ہو جائے گا اور دُعا کا ۱؎ المؤمن: ۶۱ ۲؎ تذکرہ صفحہ۱۵۷۔ایڈیشن چہارم