مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 358
مکتوب نمبر۲۲ ایک روحانی نشان جس سے ثابت ہوگا کہ یہ عاجز صادق اور خدا تعالیٰ سے مُؤَیّد ہے یا نہیں اور شیخ محمد حسین بٹالوی اس عاجز کو کاذب اور دجال قرار دینے میں صادق ہے یا خود کاذب اور دجال ہے عاقل سمجھ سکتے ہیں کہ منجملہ نشانوں کے، حقائق اور معارف اور لطائف حکمیہ کے بھی نشان ہوئے ہیں جو خاص ان کو دیئے جاتے ہیں جو پاک نفس ہوں اور جن پر فضل عظیم ہو جیسا کہ آیت ۱؎ اور آیت ۲؎ بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے۔سو یہی نشان میاں محمد حسین کے مقابل پر میرے صدق اور کذب کے جانچنے کے لئے کھلی کھلی نشانی ہو گی اور اس فیصلہ کے لئے اَحسن انتظام اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مختصر جلسہ ہو کر منصفان تجویز کردہ اس جلسہ کے چند سورتیں قرآن کریم کی جن کی عبارت اسّی۸۰ آیت سے کم نہ ہو۔تفسیر کے لئے منتخب کر کے پیش کر یں اور پھر بطور قرعہ اندازی کے ایک سورۃ اُن میں سے نکال کر اسی کی تفسیر معیار امتحان ٹھہرائی جائے او راس تفسیر کے لئے یہ امر لازمی ٹھہرایا جاوے کہ بلیغ فصیح زبان عربی اور مقفّٰی عبارت میں قلمبند ہو اور دس جزو سے کم نہ ہو، اور جس قدر اس میں حقائق اورمعارف لکھے جائیں وہ نقل عبارت کی طرح نہ ہو بلکہ معارف جدیدہ اور لطائف غریبہ ہوں۔جوکسی دوسری کتاب میں نہ پائے جائیں اور بایں ہمہ اصل تعلیم قرآنی سے مخالف نہ ہوں بلکہ ۱؎ الواقعۃ: ۸۰ ۲؎ البقرۃ: ۲۷۰