مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 356

روکنے کے تین سَو ستائیس احباب اور مخلص جلسہ اشاعت حق پر دوڑے آویں۔اب اس سے زیادہ کیا لکھوں۔میں اس خط کو انشاء اللہ چھاپ کر شائع کر دوں گا اور مجھے اس بات کی ضرورت نہیں کہ اس الہامی پیشگوئی کی آزمائش کے لئے بٹالہ میں کوئی مجلس مقرر کروں۔مناسب ہے کہ آپ بھی اپنے اشاعۃ السنہ میں میرے اس خط کو شائع کر دیں اور یہ بات بھی ساتھ لکھ دیں کہ اب آپ کو قبول کرنے میں کیا عذر ہے؟ خود منصف لوگ دیکھ لیں گے کہ وہ عذر صحیح یا غلط ہے۔مکرر یہ کہ اللہ جلشانہٗ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعویٰ میں صادق ہوں، نہ مفتری ہوں نہ دجال نہ کذاب۔اس زمانہ میں کذاب اور دجال اور مفتری پہلے اس سے کچھ تھوڑے نہیں تھے تا خدا تعالیٰ صدی کے سر پر بھی بجائے ایک مجدد کے جو اس کی طرف سے مبعوث ہو، ایک دجال کو قائم کرکے اور بھی فتنہ اور فساد ڈال دیتا۔مگر جو لوگ سچائی کو نہ سمجھیں اور حقیقت کو دریافت نہ کریں اور تکفیر کی طرف دوڑیں، میںان کا کیا علاج کروں۔میں اس بیمار دار کی طرح جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے، اس ناشناس قوم کے لئے سخت اندوہ گیں ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اے قادر ذوالجلال خدا! اے ہادی اور رہنما! ان لوگوں کی آنکھیں کھول اور آپ ان کو بصیرت بخش اور آپ ان کے دلوں کو سچائی اور راستی کا الہام بخش۔اور یقین رکھتا ہوں کہ میری دعائیں خطا نہیں جائیں گی کیونکہ میں اس کی طرف سے ہوں اور اس کی طرف بلاتا ہوں۔یہ سچ ہے کہ اگر میں اس کی طرف سے نہیں ہوں اور ایک مفتری ہوں تو وہ بڑے عذاب سے مجھ کو ہلاک کرے گا کیونکہ وہ مفتری کو کبھی وہ عزت نہیں دیتا کہ جو صادق کو دی جاتی ہے۔میں نے جو ایک پیشگوئی، جس پر آپ نے میرے صادق اور کاذب ہونے کا حصر کر دیا، آپ کی خدمت میں پیش کی ہے۔یہی میرے صدق اور کذّب کی شناخت کے لئے ایک کافی شہادت ہے۔کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کذاب اور مفتری کی مدد کرے۔لیکن ساتھ اس کے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس پیشگوئی کے متعلق دوپیشگوئی اور ہیں۔جن کو میں اشتہار ۱۰؍ جولائی۱۸۸۸ء میں شائع کر چکا ہوں، جن کا مضمون یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اس عورت کو بیوہ کر کے میری طرف ردّ کرے گا۔اب انصاف سے دیکھیں کہ نہ کوئی انسان اپنی حیات پر اعتماد کر سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی نسبت دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا یا فلاں وقت تک مر جائے گا مگر میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعویٰ ہیں۔اوّل نکاح کے وقت تک