مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 357
میرا زندہ رہنا۔دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا۔سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مر جانا۔پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ششم پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں؟ اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی سچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہوسکتی ہے۔پھر اگر اس پیشگوئی پر جو لڑکی کے باپ کے متعلق ہے جو ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۲ء کو پوری ہوگئی آپ کا دل نہیں ٹھہرتا؟ تو آپ اشاعۃ السنہ میں ایک اشتہار حسب اپنے اقرار کے دے دیں کہ اگر یہ دوسری پیشگوئیاں بھی پوری ہوگئیں تو اپنے ظنونِ باطلہ سے توبہ کروں گا اور دعویٰ میں سچا سمجھ لوں گا اور ساتھ اس کے خدا تعالیٰ سے ڈر کر یہ بھی اقرار کردیں کہ ایک تو ان میں سے پوری ہوگئی اور اگر اس پیشگوئی کے پورا ہو جانے کا آپ کے دل میں زیادہ اثر نہ ہو تو اس قدر تو ضرور چاہیے کہ جب تک اخیر ظاہر نہ ہو، کفِّ لسان اختیار کریں۔جب ایک پیشگوئی پوری ہوگئی تو اس کی کچھ تو ہیبت آپ کے دل پر چاہیے۔آپ تو میری ہلاکت کے منتظر اور میری رُسوائی کے دنوں کے انتظار میں ہیں اور خدا تعالیٰ میرے دعویٰ کی سچائی پر نشان ظاہر کرتا ہے۔اگر آپ اب بھی نہ مانیں تو میرا آپ پر زور ہی کیا ہے لیکن یاد رکھیں کہ انسان اپنے اوائل ایام انکار میں بباعث کسی اشتباہ کے معذور ٹھہر سکتا ہے لیکن نشان دیکھنے پر ہرگز معذور نہیں ٹھہر سکتا۔کیا یہ پیشگوئی جو پوری ہوگئی کوئی ایسا اتفاقی امر ہے جس کی خدا تعالیٰ کو کچھ بھی خبر نہیں۔کیا بغیر اس کے علم اور ارادہ کے ایک دجال کی تائید میں خود بخود یہ پیشگوئی وقوع میں آگئی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مدعی کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی توریت کی۔اگر آپ میںانصاف کا کچھ حصہ ہے اور تقویٰ کا کچھ ذرّہ ہے تو اب زبان کو بند کر لیں۔خدا تعالیٰ کا غضب آپ کے غضب سے بہت بڑا ہے۔ ۱؎ والسلام علی من اتبع الھدی وما استکبرو ما ابٰی عاجز۔غلام احمد عفی اللہ عنہ ۱؎ النِّسآء: ۱۴۸ ، آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۳۱۹ تا ۳۲۶