مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 355
دے کر فرماتا ہے ۱؎ اور فرماتا ہے ۔۲؎ رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔پس اس پیشگوئی کے الہامی ہونے کے لئے ایک مسلمان کے لئے یہ دلیل کافی ہے جو منجانب اللہ ہونے کے دعویٰ کے ساتھ یہ پیشگوئی بیان کی گئی اور خدا تعالیٰ نے اس کو سچی کر کے دکھلا دیا۔اور اگر آپ کے نزدیک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دراصل مفتری ہو اور سراسر دروغ گوئی سے کہے کہ میں خلیفۃ اللہ اور مامور من اللہ اور مجدّدِ وقت اور مسیح موعود ہوں اور میرے صدق کا نشان یہ ہے کہ اگر فلاں شخص مجھے اپنی بیٹی نہیں دے گا اور کسی دوسرے سے نکاح کر دے گا تو نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ اس سے بہت قریب فوت ہو جائے گا اور پھر ایسا ہی واقعہ ہو جائے تو برائے خدا اس کی نظیر پیش کرو، ورنہ یاد رکھو کہ مرنے کے بعد اس انکار اور تکذیب اور تکفیر سے پوچھے جاؤ گے۔خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ۳؎ سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو، اس کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔شیخ صاحب! اب وقت ہے سمجھ جاؤ اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شیخی پیش نہیں جائے گی اور اگر کوئی نجومی یا رمّال یا جفری اس عاجز کی طرح دعویٰ کر کے کوئی پیشگوئی دکھلا سکتا ہے تو اس کی نظیر پیش کرو اور چند اخباروں میں درج کرا دو۔اور یاد رکھو کہ ہر گز پیش نہیں کر سکو گے اور ایسا نجومی ہلاک ہوگا۔خدا تعالیٰ تو اپنے نبی کو فرماتا ہے کہ اگر وہ ایک قول بھی اپنی طرف سے بناتا تو اس کی رگِ جان قطع کی جاتی۔پھر یہ کیونکر ہو کہ بجائے رگِ جان قطع کی جانے کے اللہ شانہٗ اس عاجز کو جو آپ کی نظر میں کافر، مفتری، دجال، کذاب ہے، دشمنوں کے مقابل پر یہ عزت دے کہ تائید دعویٰ میں پیشگوئی پوری کرے۔کبھی دنیا میں یہ ہوا ہے کہ کاذب کی خدا تعالیٰ نے ایسی مدد کی ہو؟ کہ وہ گیارہ برس سے خدا تعالیٰ پر یہ افترا کر رہا ہو کہ اس کی وحی ولایت اور وحی محدثیت میرے پر نازل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس کی رگِ جان نہ کاٹے بلکہ اس کی پیشگوئیوں کو پورا کر کے آپ جیسے دشمنوں کو منفعل اور نادم اور لاجواب کر ے اور آپ کی کوشش کا نتیجہ یہ ہو کہ آپ کی تکفیر سے پہلے تو کل پچہتر آدمی سالانہ جلسہ میں شریک ہوں اور بعد آپ کی تکفیر اورجانکاہی اور لوگوں کے ۱؎ المؤمن: ۲۹ ۲؎ الجنّ: ۲۷، ۲۸ ۳؎ المؤمن: ۲۹