مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 354

جس کا ان تمام بے دین قرابتیوں پر اثر پڑتا تھا۔خدا ترس آدمی سمجھ سکتا ہے کہ موت اور حیات انسان کے اختیار میں نہیں اور ایسی پیشگوئی جس میں ایک شخص کی موت کو اس کی بیٹی کے نکاح کے ساتھ، جو غیر سے ہو، وابستہ کر دیا گیا اور موت کی حد مقرر کر دی گئی۔انسان کا کام نہیں ہے۔چونکہ یہ الہامی پیشگوئی صاف بیان کر رہی تھی کہ مرزا احمد بیگ کی موت اور حیات اس کی لڑکی کے نکاح سے وابستہ ہے اس لئے پانچ برس تک یعنی جب تک اس لڑکی کا کسی دوسری جگہ نکاح نہ کیا گیا، مرزا احمد بیگ زندہ رہا اور پھر ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ء میں احمد بیگ نے اس لڑکی کا ایک جگہ نکاح کر دیا اور بموجب پیشگوئی کے تین برس کے اندر یعنی نکاح کے چھٹے مہینہ میں جو ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۲ء تھی، فوت ہو گیا۔اور اسی اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگرچہ روزِ نکاح سے موت کی تاریخ تین برس تک بتلائی گئی ہے مگر دوسرے کشف سے معلوم ہوا کہ کچھ بہت عرصہ نہیں گذرے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نکاح اور موت میں صرف چھ مہینہ بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہا۔یعنی جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ء میں نکاح ہوا اور ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۲ء کو مرزا احمد بیگ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔اب ذرا خدا تعالیٰ سے ڈر کر کہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہوگئی یا نہیں؟ اور اگر آپ کے دل کو یہ دھوکہ ہو کہ کیونکر یقین ہو کہ یہ الہامی پیشگوئی ہے؟ کیوں جائز نہیں کہ دوسرے وسائل نجوم و رمل و جفر وغیرہ سے ہو؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ منجموں کی اس طور کی پیشگوئی نہیں ہوا کرتی جس میں اپنے ذاتی فائدہ کے لحاظ سے اس طور کی شرطیں ہوں کہ اگر فلاں شخص ہمیں بیٹی دے تو زندہ رہے گا ورنہ نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ بہت جلد مر جائے گا۔اگر دنیا میں کسی منجم یا رمّال کی اس قسم کی پیشگوئی ظہور میں آئی ہے تو وہ اس کے ثبوت کے ساتھ پیش کریں۔علاوہ اس کے اس پیشگوئی کے ساتھ اشتہار میں ایک دعویٰ پیش کیا گیا ہے یعنی یہ کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہوں اور مامور من اللہ ہوں اور میری صداقت کا نشان یہ پیشگوئی ہے۔اب آپ اگر کچھ بھی اللہ شانہٗ کا خوف رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے کہ ایسی پیشگوئی جو منجانب اللہ ہونے کیلئے بطور ثبوت کے پیش کی گئی ہے، اسی حالت میں سچی ہو سکتی تھی کہ جب درحقیقت یہ عاجز منجانب اللہ ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کو جو ایک جھوٹے دعویٰ کے لئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی۔ہرگز سچی نہیں کر سکتا ،وجہ یہ کہ اس میں خلق اللہ کو دھوکا لگتا ہے۔جیسا کہ اللہ جلّشانہٗ خود مدعی صادق کیلئے یہ علامت قرار