مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 352

مکتوبات احمد ۳۵۲ جلد اول اقول: اے حضرت ! آپ کو آنے سے کس نے منع کیا تھا؟ یا میری ڈیوڑھی پر دربان تھے جنہوں نے اندر آنے سے روک دیا ؟ کیا پہلے اس سے آپ پوچھ پوچھ کر آیا کرتے تھے؟ آپ کے تو والد صاحب بھی بیماری اور تپ کی حالت میں بھی بٹالہ سے افتاں خیزاں میرے پاس آجاتے تھے پھر آپ کو نئی روک کونسی پیش آ گئی تھی ؟ اور جب کہ آپ اپنے ذاتی بخل اور ذاتی حسد اور شیخ نجدی کے خصائل اور کبر اور نخوت کو کسی حالت میں چھوڑنے والے نہیں تھے تو میں آپ کو اپنے مکان پر بلا کر کیا ہمدردی اور رحمت کرتا؟ ہاں! میں نے آپ کے مکان پر بھی جانا خلاف مصلحت سمجھا کیونکہ میں نے آپ کے مزاج میں کبر اور نخوت کا مادہ معلوم کر لیا تھا اور میرے نزدیک یہ قرین مصلحت تھا کہ آپ کو ایک مسہل دیا جائے اور جہاں تک ہو سکے وہ مادہ آپ کے اندر سے باستیفا نکال دیا جائے ۔ سواب تک تو کچھ تخفیف معلوم نہیں ہوتی ۔ خدا جانے کس غضب کا مادہ آپ کے پیٹ میں بھرا ہوا ہے۔ اور اللہ جل شانہ جانتا ہے کہ میں نے آپ کی بد زبانی پر بہت صبر کیا۔ بہت ستایا گیا اور آپ کو رو کے گیا اور اب بھی آپ کی بد گوئی اور تکفیر اور تفسیق پر بہر حال صبر کر سکتا ہوں لیکن بعض اوقات محض اس نیت سے پیرا یہ درشتی آپ کی بدگوئی کے مقابلہ میں اختیار کرتا ہوں کہ تا وہ مادہ خبث کہ جو مولویت کے باطل تصور سے آپ کے دل میں جما ہوا ہے اور جن کی طرح آپ کو چمٹا ہوا ہے۔ وہ بکلی نکل جائے ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ میں علی وجہ البصیرت یقین رکھتا ہوں کہ آپ صرف استخوان فروش ہیں اور علم اور درایت اور تفقہ سے سخت بے بہرہ اور ایک نبی اور بلید آدمی ہیں جن کو حقائق اور معارف کے کوچہ کی طرف ذرہ بھی گزر نہیں اور ساتھ اس کے یہ بلا لگی ہوئی ہے کہ ناحق کے تکبر اور نخوت نے آپ کو ہلاک ہی کر دیا ہے۔ جب تک آپ کو اپنی اس جہالت پر اطلاع نہ ہو اور دماغ سے غرور کا کیڑا نہ نکلے تب تک آپ نہ کوئی دنیا کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں نہ دین کی۔ آپ کا بڑا دوست وہ ہوگا جو اس کوشش میں لگار ہے جو آپ کی جہالتیں اور نخوتیں آپ پر ثابت کرے۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کو کس بات پر ناز ہے۔ شرمناک فطرت کے ساتھ اور اس موٹی سمجھ اور سطحی خیال پر یہ تکبر اور یہ ناز نعوذ بالله من هذه الجهالة والحمق و ترك الحياء والسخافة والضلالة اور آپ کا یہ خیال کہ میں نے اب فساد کیلئے خط بھیجا ہے تا کہ بٹالہ کے مسلمانوں میں پھوٹ پڑے۔ عزیز من! یہ آپ کے فطرتی تو ہمات ہیں۔ میں نے پھوٹ کیلئے نہیں بلکہ آپ کی حالت زار پر