مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 330

مکتوب نمبر۱۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ محبی اخویم مولوی صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کو کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوتی۔جس کا جواب لکھا جائے۔اس عاجز کے دعویٰ کی بناء الہام پر تھی مگر آپ ثابت کرتے کہ قرآن اور حدیث اس دعویٰ کے مخالف ہے اور پھر یہ عاجز آپ کے ان دلائل کو اپنی تحریر سے توڑ نہ سکتا تو آپ تمام حاضرین کے نزدیک سچے ہوجاتے اور بقول آپ کے میں اس الہام سے توبہ کرتا۔لیکن خدا جانے آپ کو کیا فکر تھی جو آپ نے اس راہ راست کو منظور نہ کیا۔خیر اب ازالہ اوہام کا ردّ لکھنا شروع کیجئے۔لوگ خود دیکھ لیں گے۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مرتب: اس کارڈ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ میں خط و کتابت کو گونہ بند کر دیا تھا۔اس لئے کہ مولوی محمد حسین صاحب اصل مطلب کی طرف آتے نہ تھے۔آپ نے اتمامِ حجت کیلئے اشتہار ۳؍ مئی ۱۸۹۱ء میں علماء لودہانہ کو خطاب کیا اور اس میں مولوی محمد حسن صاحب کو بھی مخاطب فرمایا۔مولوی محمد حسین صاحب نے مولوی محمد حسن صاحب کو آڑ بنا کر پھر خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا۔ہر چند وہ خطوط مولوی محمد حسن صاحب کے ہاتھ کے تھے لیکن دراصل ان کی تہہ میں مولوی محمدحسین صاحب کا ہاتھ اور قلم تھا۔اس لئے جو خطوط اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھے انہیں بھی درج سلسلہ کر دیتا ہوں۔(مرتب)