مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 329
ع مرا خواندی و خود بدام آمدی قولہ: اگر آپ میری اس شرط کو قبول نہ کریں اور مباحثہ سے پہلے ازالہ اوہام بھیج نہ سکیں تو میںاس شرط کی تسلیم سے آپ کو بری کرتا ہوں بشرطیکہ پہلی تحریرات آپ کی ہوں اور بعد میں میری۔اقول: حضرت آپ ازالہ اوہام کے اکثر اوراق دیکھ چکے۔اب مجھے کس شرـط سے بری کرتے ہو۔اور میں ابھی ثابت کر چکا ہوں کہ پہلے تحریر کرنا آپ کا ذمہ ہے۔اب دیکھئے یہ آپ کا آخری ہتھیار بھی خطا گیا۔عنقریب یہ آپ کا خط بھی بذریعہ اخبارات پبلک کے سامنے پیش کیا جاوے گا تالوگ دیکھ لیں کہ آپ کی تحریرات میں کہاں تک راستی اور حق پسندی اور حق طلبی ہے۔بالآخر ایک مثال بھی سنیئے۔زید ایک مفقود الخبر ہے۔جس کے گم ہونے پر مثلاً دو سَو برس گذر گیا۔خالد اور ولید کا اس کی حیات اور موت کی نسبت تنازع ہے اور خالد کو ایک خبر دینے والے نے خبر دی کہ درحقیقت زید فوت ہو گیا لیکن ولید اُس خبر کا منکر ہے۔اب آپ کی کیا رائے ہے؟ بارِثبوت کس کے ذمہ ہے؟ کیا خالد کو موافق اپنے دعویٰ کے زید کا مر جانا ثابت کرنا چاہئے یا ولید زید کا اس مدت تک زندہ رہنا ثابت کرے؟ کیا فتویٰ ہے؟ راقم خاکسار ۲۰؍ اپریل ۱۸۹۱ء غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج نوٹ: اس مثال سے یہ غرض ہے کہ جس پر بارِ ثبوت ہے اس کی طرف سے ثبوت دینے کیلئے پہلے تحریر چاہئے۔