مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 327

اقول: حضرت! یہ تو آپ حیلہ حوالہ سے اپنے تئیں ڈھیل دے رہے ہیں۔میں نے کب کہا تھا کہ مجھے ڈھیل دیں۔آپ کی آدھی رات کو تار آئی۔میں تیار ہو گیا۔آپ کی اصل حقیقت معلوم کرنے کیلئے خرچ دے کر بلاتوقف اپنا آدمی روانہ کیا۔بحث منظور کر لی، سب انتظام مجلس اپنے ذمہ لے لیا مگر آپ ہماری تیاری کا نام سنتے ہی کنارہ کش ہوگئے۔اب سوچیں کہ کیا میں نے بحث کو ڈھیل میں ڈال دیا یا آپ نے؟ اگر میں آپ ہی لاہور میں پہنچتا تو کس قدر تکلیف ہوتی۔آپ کی اس حرکت نے نہ صرف آپ کو شرمندہ کیا بلکہ آپ کی تمام عقلمند پارٹی کو خجالت کا حصہ دیا۔اس کنارہ کشی کا آپ پر بڑا بار ہے کہ جو بودے عذروں سے دُور نہیں ہو سکتا۔آپ نے ناگوار طریقہ سے مقابل پر آنے کی دھمکی تو دی مگر آخر آپ ہی نہ ٹھہر سکے۔کیا اس دعویٰ کے ساتھ جو آپ کو ہے، یہ گریز آپ کی علمی وجاہت پر دھبہ نہیں لگاتے؟ قولہ: اگر آپ عین مباحثہ کے جلسہ میں اصول کی تمہید و تسلیم سے ڈریں تو میں اُن اصول کو آپ کے پاس وہاں بھیج دیتا ہوں تا آپ کو آپ کے سمجھنے کیلئے کافی مہلت مل جائے۔ناگہانی ابتلا سے بچ جائیں اور وہ حال نہ ہو جو آپ کے حواری کا ہوا۔اقول: حضرت آپ کو خود مناسب ہے کہ آپ ان اصولوں سے ڈریں۔کوئی عقلمند ان بیہودہ باتوں سے ڈر نہیں سکتا اور میں تو آپ کے ان اصولوں کو محض لغو سمجھتا ہوں اور ایسے لغویات کی طرف سے مجھے یہ آیت روکتی ہے جو اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے۔ ۱؎ اور نیز یہ حدیثِ نبوی کہ مِنْ حُسْنِ اِسْـلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ ۲؎ یہ بات ظاہر ہے کہ جو بات ضرورت سے خارج ہے وہ لغو ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ اس بحث کے لئے شرعی طور پر آپ کو کس بات کی ضرورت ہے۔سو ادنیٰ تأمل سے ظاہر ہوگا کہ آپ صرف اس بات کے مستحق ہیں کہ مجھ سے تشخیص دعویٰ کرا دیں۔سو میں نے بذریعہ فتح اسلام و توضیح مرام اور نیز بذریعہ اس حصہ ازالہ اوہام کے جو قول فصیح میں شائع ہو چکا ہے، اچھی طرح اپنا دعویٰ بیان کیا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اس سے زیادہ اور کوئی میرا دعویٰ نہیںجو آپ پر مخفی ہو اور وہ دعویٰ یہی ہے کہ میں الہام کی بنا پر مثیل مسیح ہونے کا مدعی ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہوں کہ حضرت مسیح ابن مریم ۱؎ المؤمنون: ۴ ۲؎ سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ حدیث نمبر۳۹۷۶