مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 326

ثابت ہوتا رہے گا کہ یہ شخص ملہم نہیں ہے فقط۔حضرت مولوی صاحب۔من آنم کہ من دانم، آپ جہاں تک ممکن ہے ایسے الفاظ استعمال کیجئے۔میں کہتا ہوں اور میری شان کیا، بے شک آپ جو چاہیں لکھیں اور اس وعدہ تہذیب کی پرواہ نہ رکھیں جس کو آپ چھاپ چکے ہیں۔ربی یسمع ویرٰی والسلام علی من اتبع الھدٰی۔خاکسار غلام احمد آج ۱۶؍ اپریل ۱۸۹۱ء کو آپ کی خدمت میں خط بھیجا گیا ہے اور ۲۰؍ اپریل ۱۸۹۱ء تک آپ کے جواب کے انتظار (میں) رہیں گے۔اگر ۲۰؍ اپریل ۱۸۹۱ء تک آپ کا جواب نہ پہنچا تو یہی خط آپ کے رسالہ کے جواب میں کسی اخبار وغیرہ میں شائع کر دیا جاوے گا۔فقط۔مرزا غلام احمد۔بقلم خود ۱۶؍ اپریل ۱۸۹۱ء مکتوب نمبر۱۳ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ وَ نصلّی علی رسولہ الکریم الحمدلِلّٰہِ والسَّلام عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی از عاجز عائذ باللہ الصمد مرزا غلام احمد عافاہ اللہ و ایدہ۔بخدمت اخویم مکرم مولوی ابوسعیدمحمد حسین صاحب سلمہٗ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔باعث تعجب ہوا۔آپ نہ تو اظہارِحق کی غرض سے بحث کرنا چاہتے ہیں اور نہ اس جوشِ بے اصل سے باز رہ سکتے ہیں۔عزیز من رحمکم اللہ! یہ عاجز آپ کو کوئی الزام دینا نہیں چاہتا مگر آپ ہی کا قول و فعل آپ کو الزام دے رہا ہے۔آپ کا آدھی رات کو تار پہنچا کہ ابھی آؤ ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے۔کس قدر آپ کی اس تار پود سے مخالف ہے جو آپ اب پھیلا رہے ہیں۔افسوس کہ آپ نے بحث کرنے کے لئے بذریعہ تار بلایا پھر آپ گریز کر گئے اور اب آپ کاخط ’’مشت بعد از جنگ‘‘ کا نمونہ ہے۔فضول باتوں کو پیش کر کے اور بھی تعجب میں ڈالتا ہے۔چنانچہ ذیل میں آپ کے اقوال کا جواب دیتا ہوں۔قولہ: دو باتیں جن سے آپ کو ڈھیل دیتاہوں لکھتا ہوں۔