مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 328

درحقیقت فوت ہوگئے ہیں۔سو اس عاجز کا مثیل مسیح ہونا تو آپ اشاعۃ السنۃ میں امکانی طو رپر مان چکے ہیں اور میں اس سے زیادہ آپ سے تسلیم بھی نہیں کراتا۔اگر میں حق پر ہوں تو خود اللہ شانہٗ میری مدد کرے گا اور اپنے زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کر دے گا۔رہا ابن مریم کا فوت ہونا، سو فوت ہونے کے دلائل لکھنا میرے پر کچھ فرض نہیں کیونکہ میں نے کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جو خدا تعالیٰ کی سنت قدیمہ کے مخالف ہو بلکہ مسلسل طور پر ابتدائے حضرت آدم سے یہی طریق جاری ہے۔جو پیدا ہوا وہ آخر ایک دن جوانی کی حالت میں یا بڈھا ہو کر مرے گا۔جیسا کہ اللہ جلشانہٗ فرماتے ہیں۔  ۱؎ پس جب کہ میرے پر یہ فرض ہی نہیں کہ میں مسیح کے فوت ہونے کے دلائل لکھوں، اور ان کا فوت ہونا تو میں بیان ہی کر چکا تو اب اگر میں آپ سے پہلے لکھوں تو فرمائیے کیا لکھوں؟ یہ تو آپ کا حق ہے کہ میرے بیان کے ابطال کیلئے پہلے آپ قلم اُٹھائیں اور آیات اور احادیث سے ثابت کر دکھائیں کہ سارا جہان تو اس دنیا سے رخصت ہوتا گیا اور ہمارے نبی کریم ؐبھی وفات پاگئے مگر مسیح وفات پانے سے اب تک باقی رہا ہوا ہے۔کسی مناظر کو پوچھ کر دیکھ لیں کہ دَابِ مناظرہ کیا ہے؟ اب یہ بھی یاد رہے کہ آپ کی دوسری سب بحثیں مسیح کے زندہ مع الجسد اُٹھائے جانے کی فرع ہیں۔اگر آپ یہ ثابت کر دیں گے کہ مسیح زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اُٹھایا گیا تو پھر آپ نے سب کچھ ثابت کر دیا۔غرض پہلے تحریر کرنا آپ کا حق ہے۔اگر اب بھی آپ مانتے نہیں تو چند غیرقوموں کے آدمیوں کو منصف مقرر کر کے دیکھ لو۔اور اخویم حکیم مولوی نورالدین صاحب کب آپ کے بلائے لاہور میں گئے تھے۔جنہوں نے بلایا انہوں نے مولوی صاحب موصوف سے اپنی پوری تسلی کرالی اور آپ کے ان لغو اصولوں سے بیزاری ظاہر کی تو پھر اگر مولوی صاحب آپ سے اعراض نہ کرتے تو اور کیا کرتے؟ اعراض کا نام آپ نے فرار رکھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے دست بدست آپ کو دکھا دیا کہ فرار کس سے ظہور میں آیا۔یہ مولوی صاحب کی راستبازی کی کرامت ہے جس نے آپ پر یہ مصرعہ سچا کر دیا۔۱؎ الحج: ۶