مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 325

لکھوں اور انہیں دونوں پرچوں پر بحث ختم ہو جائے۔اگر آپ کو ایسا منظور ہو تو میں لاہور میں آ سکتا ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ امن قائم رکھنے کیلئے انتظام کرا دوں گا۔یہی آپ کے رسالہ کا بھی جواب ہے۔اب اگر آپ نہ مانیں تو پھر آپ کی طرف سے گریز متصور ہوگی۔راقم خاکسار ۱۶؍ اپریل ۱۸۹۱ء غلام احمد از لدھیانہ محلہ اقبال گنج مکرر یہ کہ جس قدر ورق لکھنے کیلئے آپ پسند کر لیں اُسی قدر اوراق پر لکھنے کی مجھے اجازت دی جائے لیکن یہ پہلے سے جلسہ میں تصفیہ پا جانا چاہئے کہ آپ اس قدر اوراق لکھنے کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔اور آں مکرم اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ پرچے صرف دو ہوں گے۔اوّل آپ کی طرف سے میرے ان دونوں بیانات کا ردّ ہوگا جو میں نے لکھا ہے کہ میں مثیلِ مسیح ہوں اور نیز یہ کہ حضرت مسیح ابن مریم درحقیقت وفات پا گئے ہیں۔پھر اس ردّکے ردّ الردّ کے لئے میری طرف سے تحریر ہوگی۔غرض پہلے آپ کا یہ حق ہوگاکہ جو کچھ ان دعاوی کے بطلان کے لئے آپ کے پاس ذخیرۂ نصوص قرآنیہ و حدیثیہ موجود ہے وہ آپ پیش کریں پھر جس طرح خدا تعالیٰ چاہے گا یہ عاجز اس کا جواب دے گا۔اور بغیر اس طریق کے جس کی انصاف پر بنا اور نیز امن رہنے کیلئے احسن انتظام ہے اور کوئی طریق اس عاجز کو منظور نہیں۔اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے یہ آخری تحریر تصوّر فرماویں اور خود بھی خط لکھنے کی تکلیف روا نہ رکھیں اور بحالت انکار ہرگز کوئی تحریر یا کوئی خط میری طرف نہ لکھیں۔اگر پورے اور کامل طور پر بلا کم و بیش میری رائے ہی منظور ہو تو صرف اس حالت میں جواب تحریر فرماویں، ورنہ نہیں۔آج بھوپال سے ایک کارڈ مرقومہ ۹؍ اپریل ۱۸۹۱ء اخویم مولوی محمد احسن صاحب مہتمم مصارف ریاست پڑھ کر آپ کے اخلاقِ کریمانہ اور مہذبانہ تحریر کا نمونہ معلوم ہوگیا۔آپ اپنے کارڈ میں فرماتے ہیں کہ میں نے مرزا غلام احمد کے اس دعویٰ جدید کی اپنے ریویو میں تصدیق نہیں کی بلکہ اس کی تکذیب خود براہین میں موجود ہے۔آپ بلارؤیت مرزا پر ایمان لے آئے۔آپ ذرا ایک دفعہ آکر اس کو دیکھ تو لیں۔تَسْمَعُ بِالْمُعِیْدِی خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَرَاہُ۔اشاعت السنۃ میں اب