مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 324

جن صاحبوں نے آپ کو بلایا تھا انہوں نے مولوی صاحب کے آگے بیان کیا کہ ہمیں مولوی محمد حسین صاحب کا طریق بحث پسند نہیں آیا۔یہ سلسلہ تو دو برس تک بھی ختم نہیں ہوگا۔آپ خود ہمارے سوالات کا جواب دیجئے۔ہم مولوی محمد حسین صاحب کے آنے کی ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ انہوں نے آپ کو بلایا ہے۔تب جو کچھ ان لوگوں نے پوچھا مولوی صاحب موصوف نے بخوبی ان کی تسلی کر دی۔یہاں تک کہ تقریر ختم ہونے کے بعد حافظ محمد یوسف صاحب نے بانشراحِ صدر آواز بلند سے کہا کہ اے حاضرین! میری تومِن کل الوجوہ تسلی ہوگئی اور میرے دل میں نہ کوئی شبہ اور نہ کوئی اعتراض باقی ہے۔پھر بعد اس کے یہی تقریر منشی عبدالحق صاحب و منشی الٰہی بخش صاحب و منشی امیر دین صاحب اور مرزا امان اللہ صاحب نے کی اور بہت خوش ہو کر اُن سب نے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور تہ دل سے قائل ہوگئے کہ اب کوئی شک باقی نہیں اور مولوی صاحب کو یہ کہہ کر رخصت کیا کہ ہم نے محض اپنی تسلی کرانے کیلئے آپ کو تکلیف دی تھی، سو ہماری بکلّی تسلی ہوگئی آپ بلاجرح تشریف لے جائیے۔سو انہوں نے ہی بلایا اور انہوں نے ہی رخصت کیا۔آپ کا تو درمیان قدم ہی نہ تھا پھر آپ کا یہ جوش جو تار کے فقرات سے ظاہر ہوتا ہے کس قدر بے محل ہے۔آپ خود انصاف فرماویں جب کہ ان سب لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ اب ہم مولوی محمد حسین صاحب کو بلانا نہیں چاہتے، ہماری تسلی ہوگئی اور وہی تو تھے جنہوں نے مولوی صاحب کو لدھیانہ سے بُلایا تھا تو پھر مولوی صاحب آپ سے کیوں اجازت مانگتے، کیا آپ نہیں سمجھ سکتے۔اور اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ بحث ہونی چاہئے جیسا کہ آپ اپنے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں تو یہ عاجز بسروچشم حاضر ہے مگر تقریری بحثوں میں صدہا طرح کا فتنہ ہوتا ہے، صرف تحریری بحث چاہئے اور وہ یوں ہو کہ مساوی طور پر چار ورق کاغذ پر آپ جو چاہیں لکھ کر پیش کریں اور لوگوں کو بآوازبلند سنادیں اور ایک نقل اس کی اپنے دستخط سے مجھے دے دیں۔پھر بعد اس کے میں بھی چار ورق پر اس کا جواب لکھوں اور لوگوں کو سُنا دوں۔ان دونوں پرچوں پر بحث ختم ہو جائے اور فریقین میں سے کوئی ایک کلمہ تک تقریری طور پر اس بحث کے بارہ میں نہ کرے، جو کچھ ہو تحریر میں ہو اور پرچے صرف دو ہوں۔اوّل آپ کی طرف سے ایک چوورقہ پرچہ جس میں آپ میرے مشہور کردہ دعویٰ کا قرآن کریم اور حدیث کی رو سے ردّ لکھیں اور پھر دوسرا پرچہ چوورقہ اسی تقطیع کا میری طرف سے ہو جس میں میں یہ اللہ جل شانہٗ کے فضل و توفیق سے ردّ الردّ