مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 308
مکتوبات احمد ۳۰۸ جلد اول آں مخدوم سے شرعی یا عرفی طور پر کچھ مواخذہ یا مطالبہ نہیں وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ، میں نے سرمہ چشم آریہ کے پہلے صفحہ پر ہی اشتہار دے دیا ہے کہ جو شخص خرید کتاب پر ناراض ہو وہ فتح بیع کر سکتا ہے۔ ایسے خطوط جب پہنچیں گے تو میں کوشش کروں گا کہ جلد تر کتابیں واپس لی جائیں اور ان کا روپیہ مستر د کیا جائے ۔ سو وہ اشتہار اطلاع عام کے لئے کافی ہے۔ میں آپ پر مکرر ظاہر کرتا ہوں کہ میں آپ پر ہرگز ناراض نہیں لیکن اگر آپ خواہ نخواہ بات کو طول دیں تو میری طرف سے ناراض ہونا بے محل بھی نہیں ۔ میں بشر ہوں اور بشریت کی صفات اور لوازم سے نبی بھی الگ نہیں رہ سکتے جو شخص ان کے دل کو خوش کرے اس سے راضی ہو جاتے ہیں ۔ اور جو شخص ان کے دل کو خواہ مخواہ آزار پہنچاوے اس سے وہ خوش نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ بشر ہیں ۔ آپ کے سامنے قرآن وحدیث سے اس کے نظائر پیش کرنا حاجت نہیں ۔ وو اور پھر آپ اپنے خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ گویا مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ وہ لڑکا بہت قریب ہونے والا ہے آپ میرے اشتہار ۸ ا پریل ۸۶ ء کو دیکھ لیں اس میں ”وہ“ کا لفظ نہیں بلکہ ایک کا لفظ ہے اور یہ آپ کا قول کہ ایسی پیشگوئیوں سے بجائے نفع اسلام کو کمال نقصان پہنچے گا ۔ میری دانست میں یہ کہنا اُس کا حق ہے کہ ان پیشگوئیوں کا مقابلہ کر کے دکھلاوے۔ میرے رسالہ سراج منیر اور اُس کی تمام پیشگوئیوں کی بناء اسی پر ہے کہ اگر کوئی مخالف کسی پیشگوئی کا انکار کرے تو ایسی پیشگوئی پیش کرے۔ آپ فرماتے ہیں کہ سراج منیر میں اسی طور کی پیشگوئیاں ہیں تو میری رائے ہے کہ سراج منیر کا طبع کرانا موقوف رکھا جائے کیونکہ ایسی کتاب سے مسلمانوں کا کمال ہتک ہو گا۔ اس کی جواب میں عرض کرتا ہوں کہ بیشک سراج منیر میں اسی طرح کی پیشگوئیاں ہیں بلکہ سب سے بڑھ کر یہی پیشگوئی ہے مگر دوسرا فقرہ آپ کا کہ ایسی پیشگوئیوں سے مسلمانوں کا کمال ہتک ہوگا ۔ فراست صحیحہ پر مبنی نہیں ہے اور آپ کا یہ قول کہ” مجھے صرف یہ خیال ہے کہ مسلمانوں کا زیادہ ہتک نہ ہو اوران کا مال ناحق بر باد نہ ہو ۔ آپ کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ بیٹا پیدا ہونے سے مسلمانوں کا کسی قدر ہتک ہو گیا ہے اور آیندہ سراج منیر کے چھپنے سے اس سے زیادہ ہوگا۔ سو میں کہتا ہوں کہ اگر پیشگوئیوں کا سچائی سے ظہور میں آجانا مسلمانوں کے لئے موجب ہتک ہے تو جس قدر یہ ہتک ہو الانعام: ۱۶۵ 66