مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 307
کُلُّ شَیْیٍٔ تَحْتَ قَدَمَیْہِ ۱؎ سو میرے نزدیک اب تک یہ الہامات ذوالوجوہ ہیں و دیگر علامات بھی۔واللہ اعلم بالصواب۔والسلام ٭ ۱۶؍ ستمبر ۱۸۸۷ء مکتوب نمبر۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی محمد حسین صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج ۲۸؍ ستمبر ۱۸۸۷ء کو آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔واضح رہے کہ اس عاجز کے قلم سے کوئی کلمہ رنج یا خفگی کا آپ کی نسبت نہیں نکلا۔بلکہ میں ممنون ہوں کہ آپ بغیر اس کے کہ اصل حال سے واقف ہوتے میرے خیر خواہوں اور خیرا ندیشوں اور نیک خیالوں میں رہے۔سو میرے لئے آپ کا شکر کرنے کیلئے یہی کافی ہے اور میں یقینا جانتا ہوںکہ آپ میں سچی محبت رہی ہے اور میرا دل شہادت دیتا ہے کہ فقط ایک سچی محبت کے جوش سے آپ قلم وزبان سے میری کارروائیوں کی نصرت میں لگے رہے ہیں۔سو رنج اور خفگی کا کوئی محل نہیں۔تا میںنے آپ پر ایک واقعی حال اظہار کیا اور پھر وہ سب واقعی عذرات آپ کی نظر میں مکتفی نہ ہوئے تو بقول شخصے کہ طاقت بمہماں نداشت خانہ مہماں گذاشت۔چند الفاظ مؤدّبانہ ترکِ نزاع کیلئے میں نے استعمال کئے۔شائد انہیں الفاظ کو آپ نے کلمہ رنج وخفگی سمجھا ہو گا۔مگر حاشا وکلا میر اوہ منشاء نہیں ہے جو آپ نے سمجھا میں پھر باَدب آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ آئندہ اخراجات کی کمی اور تخفیف کی فکر میں میں آپ ہی ہوں مگر گذشتہ تدار ک میرے حدِّامکان سے باہر ہے۔اس قصور کا خود معترف ہوں کہ جو کچھ کتاب کی قیمت میں آیا وہ خرچ ہوتا رہاہے۔مگر یہ بات کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک میرے وہ مصارف کس رنگ میں ہیں اور نکتہ چینوں کی نظر میں کسی رنگ میں۔اس میں بحث کرنا نہیں چاہتا۔کیونکہ گذری ہوئی بات کو طول دینا کچھ فائدہ نہیں اور میری رائے ناقص میں آپ کا اس فکر میں پڑنا مالا یلزم ہے۔۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۱۹۹ ٭ الحکم ۱۷؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۷