مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 198

مکتوبات احمد ۱۹۸ جلد اول اختیار کر کے اور تمام باتیں کذب کے ہمرنگ کہہ کر یہ ثابت کر دیوے کہ وہ ان افراد کاملہ میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لا پرواہ ہو کر دشمنوں کے مقابل پر اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں اور کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے ۔ مجھے تو ان باتوں کو یاد کر کے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اُس ضعف حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں ۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم جنگ اُحد میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میں نبی اللہ ہوں ۔ میں ابن عبد المطلب ہوں ۔ اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں کہ آپ کا یسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں ۔ حالانکہ اس کلمہ سے کوئی اس کو قتل نہیں کرتا۔ تو میں دریائے حسرت میں غرق ہو جاتا ہوں کہ یا الہی شخص بھی نبی ہی کہلاتا ہے۔ جس کی شجاعت کا خدا کی راہ میں یہ حال ہے۔ الغرض فتح مسیح نے اپنی جہالت کا خوب پردہ کھولا بلکہ اپنے یسوع صاحب پر بھی وار کیا کہ بعض ان احادیث کو پیش کر دیا جن میں تو ریہ کے جواز کا ذکر ہے۔ اگر کسی حدیث میں تو ریہ کو بطور تسامح کذب کے لفظ سے بیان بھی کیا گیا ہو تو یہ سخت جہالت ہے۔ کہ کوئی شخص اس کو حقیقی کذب پر محمول کرے۔ جبکہ قرآن اور احادیث صحیحہ بالا تفاق کذب حقیقی کو سخت حرام اور پلید ٹھہراتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی حدیثیں تو ریہ کے مسئلہ کو کھول کر بیان کر رہی ہیں ۔ تو پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ کسی حدیث میں بجائے تو ریہ کے کذب کا لفظ آ گیا ہو تو نعوذ باللہ اس سے مراد حقیقی کذب کیونکر ہو سکتا ہے ۔ بلکہ اس کے قائل کے نہایت باریک تقویٰ کا یہ نشان ہوگا کہ جس نے تو ریہ کو کذب کی صورت سمجھ کر بطور تسامح کذب کا لفظ استعمال کیا ہو۔ ہمیں قرآن اور احادیث صحیحہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی امر اس کے مخالف ہوگا تو ہم اس کے وہ معنے ہرگز قبول نہیں کریں گے جو مخالف ہوں ۔ احادیث پر نظر ڈالنے کے وقت یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ ایسی حدیثوں پر بھروسہ نہ کریں جو اُن احادیث سے مناقض اور مخالف ہوں ۔ جن کی صحت اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکی ہو۔ اور نہ ایسی حدیثوں پر جوقرآن کی نصوص صریحہ بینہ محکمہ سے صریح مخالف اور مغائر اور مبائن واقع ہوں ۔ پھر ایک ایسا مسئلہ جو لیے سہو ہے یہ واقعہ غزوہ حنین کا ہے ۔ شمس