مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 199
قرآن اور احادیث صحیحہ نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کتب دین میں صراحت سے اس کا ذکر ہے۔اس کے مخالف کسی بے ہودہ قول یا کسی مغشوش اور غیر ثابت حدیث یا مشتبہ اثر سے تمسک کر کے اعتراض کرنا یہ خیانت اور شرارت کا کام ہے۔درحقیقت عیسائیوں کو ایسی شرارتوں نے ہی ہلاک کیا ہے۔ان لوگوں کو خود بخود حدیث دیکھنے کا مادہ نہیں۔غایت کار مشکٰوۃ کا کوئی ترجمہ دیکھ کر جس بات پر اپنے فہم ناقص سے عیب لگا سکتے ہیں وہی بات لے لیتے ہیں۔حالانکہ کتب احادیث میں رطب ویا بس سب کچھ ہوتا ہے اور عامل بالحدیث کو تنقید کی ضرورت پڑتی ہے۔اور یہ ایک نہایت نازک کام ہے کہ ہریک قسم کی احادیث میں سے احادیث صحیحہ تلاش کریں اور پھر اس کے صحیح معنی معلوم کریں۔اور پھر اس کے لئے صحیح محل تلاش کریں۔قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے۔اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں۔اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں۔اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو۔بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو۔اور ان کو اپنا یاردوست مت بنائو۔اور خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔اور ایک جگہ فرماتا ہے۔کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو، ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔اب بتلائو یہ تعلیمیں انجیل میں کہاں ہیں۔اگر ایسی تعلیمیں ہوتیں تو عیسائیوں میں اپریل فول کی گندی رسمیں اب تک کیوں جاری رہتیں۔دیکھو اپریل فول کیسی بُری رسم ہے کہ ناحق جھوٹ بولنا اس میں تہذیب کی بات سمجھی جاتی ہے۔یہ عیسائی تہذیب اور انجیلی تعلیم ہے۔معلوم ہوتا ہے۔کہ عیسائی لوگ جھوٹ سے بہت ہی پیار کرتے ہیں۔چنانچہ عملی حالت اس پر شاہد ہے۔مثلاً قرآن تو تمام مسلمانوں کے ہاتھ میں ایک ہی ہے۔مگر سنا گیا ہے کہ انجیلیں ساٹھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔شاباش اے پادریان! جھوٹ کی مشق بھی اسے کہتے ہیں۔شاید آپ نے اپنے ایک مقدس بزرگ کا قول سنا ہے۔کہ جھوٹ بولنا نہ صرف جائز بلکہ ثواب کی بات ہے۔خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہو سکتی۔فرمایا ہے۱؎ یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ ۱؎ المائدہ: ۹