مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 197
جواز حدیث سے پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں۔جو توریہ سے بھی پرہیز کریں۔اور توریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کیلئے یا کسی اور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقلمند تو اس بات کو سمجھ جائے اور نادان کی سمجھ میں نہ آئے اور اس کا خیال دوسری طرف چلا جائے جو متکلم کا مقصود نہیں۔اور غور کرنے کے بعد معلوم ہوکہ جو کچھ متکلم نے کہا ہے۔وہ جھوٹ نہیں بلکہ حق محض ہے۔اور کچھ بھی کذب کی اس میں آمیزش نہ ہو۔اور نہ دل نے ایک ذرہ بھی کذب کی طرف میل کیا ہو۔جیسا کہ بعض احادیث میں دو مسلمانوں میں صلح کرانے کیلئے یا اپنی بیوی کو کسی فتنہ اور خانگی ناراضگی اور جھگڑے سے بچانے کیلئے یا جنگ میں اپنے مصالح دشمن سے مخفی رکھنے کی غرض سے اور دشمن کو اور طرف جھکا دینے کی نیت سے توریہ کا جواز پایا جاتا ہے۔مگر باوصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ توریہ اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کے برخلاف ہے۔اور بہرحال کھلی کھلی سچائی بہتر ہے۔اگرچہ اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔مگر افسوس کہ یہ توریہ آپ کے یسوع صاحب کے کلام میں بہت ہی پایا جاتا ہے۔تمام انجیلیں اس سے بھری پڑی ہیں۔اس لئے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اگر توریہ کذب ہے تو یسوع سے زیادہ دنیا میں کوئی بھی کذّاب نہیں گذرا۔یسوع صاحب کا یہ قول کہ میں خدا کی ہیکل کو ڈھا سکتا ہوں۔اور میں تین دن میں اسے بنا سکتا ہوں۔یہی وہ قول ہے جس کو توریہ کہتے ہیں۔اور ایسا ہی وہ قول کہ ایک گھر کا مالک تھا۔جس نے انگورستان لگایا۔یہ سب توریہ کی قسمیں ہیں اور یسوع صاحب کے کلام میں اس کے بہت سے نمونے ہیں۔کیونکہ وہ ہمیشہ چبا چبا کر باتیں کرتا تھا۔اور اس کی باتوں میں دورنگی پائی جاتی تھی۔اور ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ اس جگہ ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جس توریہ کو آپ کا یسوع شیر مادر کی طرح تمام عمر استعمال کرتا رہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو۔مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے یسوع صاحب اس قدر التزام سچائی کانہ کر سکے۔جو شخص خدائی کا دعویٰ کرے وہ تو شیر ببر کی طرح دنیا میں آنا چاہئے تھا نہ کہ ساری عمر توریہ