مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 120
مکتوبات احمد ۱۲۰ جلد اول ایسا لا نافیہ عربوں کے کبھی خواب میں بھی نہیں آیا ہوگا ۔ ان کے دل تو اسلام کی حقیقت سے بھرے ہوئے تھے۔ تب ہی تو سب کے سب ، بجز معدودے چند کہ جو اس عذاب کو پہنچ گئے تھے جس کا اُن کو بقیه حاشیه گزشتہ صفحہ ) (۲) دوسرے وہ نشان جو عذاب کی صورت میں یا مقدمہ عذاب کی صورت میں پہلی اُمتوں پر وارد کئے گئے تھے ۔ (۳) تیسرے وہ نشان جن سے پردہ غیبی بکلی اُٹھ جائے ، جس کا اُٹھ جانا ایمان بالغیب کے بکلی برخلاف ہے۔ سو عذاب کے نشان ظاہر ہونے کے لئے جو سوال کئے گئے ہیں ان کا جواب تو قرآن شریف میں بھی دیا گیا ہے کہ تم منتظر رہو، عذاب نازل ہوگا۔ ہاں ایسی صورت کا عذاب نازل کرنے سے انکار کیا گیا ہے جس کی پہلے تکذیب ہو چکی ہے۔ تا ہم عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا گیا ہے جو آخر غزوات کے ذریعہ سے پورا ہو گیا۔ لیکن تیسری قسم کا نشان دکھلانے سے بکلی انکار کیا گیا ہے اور خود ظاہر ہے کہ ایسے سوال کا جواب انکار ہی تھا ، نہ اور کچھ۔ کیونکہ کفار کہتے تھے کہ تب ہم ایمان لاویں گے کہ جب ہم ایسا نشان دیکھیں کہ زمین سے آسمان تک نردبان رکھی جائے اور تو ہمارے دیکھتے دیکھتے اس نردبان کے ذریعہ سے زمین سے آسمان پر چڑھ جائے اور فقط تیرا آسمان پر چڑھنا ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے جب تک آسمان سے ایک کتاب نہ لا دے جس کو ہم پڑھ لیں اور پڑھیں بھی اپنے ہاتھ میں لے کر ۔ یا تو ایسا کر کہ مکہ کی زمین میں جو ہمیشہ پانی کی تکلیف رہتی ہے۔ شام اور عراق کے ملک کی طرح نہریں جاری ہو جاویں اور جس قدرا بتداء دنیا سے آج تک ہمارے بزرگ مر چکے ہیں، سب زندہ ہو کر آ جائیں اور اس میں قصی بن کلاب بھی ہو کیونکہ وہ بڑھا ہمیشہ سچ بولتا تھا ۔ اس سے ہم پوچھیں گے کہ تیرا دعوی حق ہے یا باطل؟ یہ سخت سخت خود تراشیدہ نشان تھے جو وہ مانگتے تھے اور پھر بھی نہ صاف طور پر بلکہ شرط پر شرط لگانے سے جس کا ذکر جا بجا قرآن شریف میں آیا ہے۔ پس سوچنے والے کیلئے عرب کے شریروں کی ایسی درخواستیں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ظاہرہ و آیات بینہ ورسولا نہ ہئیت پر صاف صاف اور کھلی کھلی دلیل ہے۔ خدا جانے ان دل کے اندھوں کو ہمارے مولی و آقا محمد مصطفی اللہ کے انوار صداقت نے کس درجہ تک عاجز و تنگ کر رکھا تھا اور عليسة کیا کچھ آسمانی تائیدات و برکات کی بارشیں ہو رہی تھیں کہ جن سے خیرہ ہو کر اور جن کی ہیبت سے منہ پھیر کر سراسر ٹالنے اور بھاگنے کی غرض سے ایسی دور از صواب درخواستیں پیش کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے معجزات کا دکھلا نا ایمان بالغیب کی حد سے باہر ہے۔ یوں تو اللہ جل شانہ قادر ہے کہ زمین سے آسمان تک زینہ رکھ دیوے۔ جس کو سب لوگ دیکھ لیویں اور دو چار ہزار کیا دو کروڑ آدمیوں کو زندہ کر کے ان کے منہ سے اُن کی اولاد کے سامنے صدق نبوت کی گواہی دلا دیوے۔ یہ سب کچھ وہ کر سکتا ہے مگر ذرا سوچ کر دیکھو کہ اس انکشاف تام سے ایمان بالغیب جو مدار ثواب اور اجر ہے، دور ہو جاتا ہے اور دنیا نمونہ محشر ہو جاتی ہے۔ پس جس طرح قیامت کے میدان میں جو انکشاف تام کا وقت ہوگا ۔ ایمان کام نہیں آتا۔ اسی طرح اس انکشاف تام سے بھی ایمان لانا کچھ مفید نہیں بلکہ ایمان اسی حد تک ایمان کہلاتا ہے کہ جب کچھ اخفاء بھی باقی رہے جب سارے پردے کھ ے پر دے کھل گئے تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے سارے نبی ایمان بالغیب کی رعایت سے معجزے دکھلاتے رہے ہیں۔ کبھی کسی نبی نے ایسا نہیں کیا کہ ایک شہر کا شہر زندہ کر کے ان سے اپنی نبوت کی گواہی دلاوے یا آسمان تک نردبان رکھ کر اور سب کے روبرو چڑھ کر تمام دنیا کو تماشا دکھلاوے۔