مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 119

کرتے تھے۔جن کے اقرار قرآن شریف میں موجود ہیں۔وہ اپنے ضعیف اور کمزور کلام میں جو انوار ساطعہ نبوت محمدیہ کے نیچے دبے ہوئے تھے۔کیوں لا نافیہ استعمال کرنے لگے۔اگر ان کو ایسا ہی لمبا چوڑا انکار ہوتا تو وہ بالآخر نہایت درجہ کے یقین سے جو انہوں نے اپنے خونوں کے بہانے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے سے ثابت کر دیا تھا مشرف بالاسلام کیوں ہو جاتے؟ اور کفر کے ایام میں جو اُن کے بار بار کلمات قرآن شریف میں درج ہیں وہ یہی ہیں کہ وہ اپنی کوتہ بینی کے دھوکہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ساحر رکھتے تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱؎ یعنی جب کوئی نشان دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ پکا جادو ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے ٌ۲؎ یعنی انہوں نے اس بات سے تعجب کیا کہ انہیں میں سے ایک شخص اُن کی طرف بھیجاگیا اور بے ایمانوں نے کہا کہ یہ تو جادو گر کذّاب ہے۔اب ظاہر ہے کہ جبکہ وہ نشانوں کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو گر کہتے تھے اور پھر اس کے بعد انہیں نشانوں کو معجزہ کر کے مان بھی لیا اور جزیرہ کا جزیرہ مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک معجزات کا ہمیشہ کیلئے سچے دل سے گواہ بن گیا تو پھر ایسے لوگوں سے کیونکر ممکن ہے کہ وہ عام طور پر نشانوں سے صاف منکر ہو جاتے اور انکار معجزات میں ایسا لا نافیہ استعمال کرتے جو اُن کی حد حوصلہ سے باہر اور ان کی مستمررائے سے بعید تھا بلکہ قرائن سے آفتاب کی طرح ظاہر ہے کہ جس جس جگہ پر قرآن شریف میں کفّار کی طرف سے یہ اعتراض لکھا گیا ہے کہ کیوں اس پیغمبر پر کوئی نشانی نہیں اُتری؟ ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اُن کا مطلب یہ ہے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں۔اُن میں سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُترتی۔٭ اب قصہ کوتاہ یہ کہ آپ نے آیت متذکرہ بالا کے لا نافیہ کو قرائن کی حد سے زیادہ کھینچ دیا ہے ۱؎ القمر: ۳ ۲ ؎ صٓ: ۵ ٭ واضح ہو کہ قرآن شریف میں نشان مانگنے کے سوالات کفّار کی طرف سے ایک دو جگہ نہیں بلکہ کئی مقامات میں یہی سوال کیا گیا ہے اور اب سب مقامات کو بنظر یکجائی دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کفّارِ مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین قسم کے نشانات مانگا کرتے تھے۔(۱) وہ نشان جو عذاب کی صورت میں فقط اپنے اقتراح سے کفّارِ مکہ نے طلب کئے تھے۔