مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 121

وعدہ دیا گیا تھا، بالآخر مشرف بالاسلام ہوگئے تھے اور یاد رہے کہ ایسا لا نافیہ حضرت مسیح کے کلام میںبھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔فریسیوں نے مسیح سے نشانات طلب کئے۔اُس نے آہ کھینچ کر کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں میں تم سے سچ کہتا ہوں اِس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان نہیں دیا جائے گا۔دیکھو مرقس ۸ باب۱۱ اب دیکھو کیسا حضرت مسیح نے صفائی سے انکار کر دیا ہے۔اگر غور فرمائیں تو آپ کا اعتراض اس اعتراض کے آگے کچھ بھی چیز نہیں کیونکہ آپ نے فقط کفار کا انکار پیش کیا اور وہ بھی نہ عام انکار بلکہ خاص نشانات کے بارے میں اور ظاہر ہے کہ دشمن کا انکار بکلّی قابل اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ دشمن خلافِ واقعہ بھی کہہ جاتا ہے مگر حضرت مسیح تو آپ اپنے منہ سے معجزات کے دکھلانے سے انکار کر رہے ہیں اور نفی صدور معجزات کو زمانہ کے ساتھ متعلق کر دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیانہ جائے گا۔پس اس سے بڑھ کر انکار معجزات کے بارے میں اور کون سا بیان واضح ہو سکتا ہے اور اس لا نافیہ سے بڑھ کر پھر اور کونسا لا نافیہ ہوگا۔پھر دوسری آیت کا ترجمہ پیش کیا گیاہے۔اس میں بھی سیاق و سباق کی آیتوں سے بالکل الگ کر کے اس پر اعتراض وارد کر دیا ہے مگر اصل آیت اور اس کے متعلقات پر نظر ڈالنے سے ہر ایک منصف بصیر سمجھ سکتا ہے کہ آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں ہے کہ جو انکار معجزات پر دلالت کرتا ہو بلکہ تمام الفاظ صاف بتلا رہے ہیں کہ ضرور معجزات ظہور میں آئے۔چنانچہ وہ آیت معہ اس کی دیگر آیات متعلقہ کے یہ ہے۔o o۱؎ فرماتا ہے عزوجل کہ یوں تو قیامت سے پہلے ہر ایک بستی کو ہم نے ہی ہلاک کرنا ہے یا عذاب شدید نازل کرنا ہے یہی کتاب میں مندرج ہوچکا ہے۔مگر اس وقت ہم بعض ان گذشتہ قہری نشانوں کے (جو عذاب کی صورت میں پہلی اُمتوں پر نازل ہو چکے ہیں) اس لئے نہیں بھیجتے جو پہلی اُمت کے لوگ اس کی تکذیب کر چکے ہیں۔چنانچہ ہم ۱؎ بنی اسرآء یل: ۵۹،۶۰