مکتوب آسٹریلیا — Page 429
429 بار دورہ پر وہ ۱۹۵۹ء میں آئے تھے اور ۳۔۳ ملین لوگ ان کے اجتماعات میں شامل ہوئے تھے۔پھر ۱۹۷۹ء میں جب سڈنی آئے تو ۴۹۱۵۰۰ افراد ان کے اجتماعات میں شامل ہوئے۔ان کی تنظیم کا سالانہ بجٹ 1 کروڑ ڈالر سالانہ ہے۔(10 ملین ڈالر ) ان کا ایک ہی بیٹا ہے جس کے عشق و محبت کے افسانے ،شراب و کباب اور پینے پلانے کے شغل اخباروں میں خوب شہرت پاتے رہے ہیں اور اخبار لکھتا ہے کہ اب اس کے بعد اس نے اپنی باپ کی تنظیم ، شکل وصورت اور خدا کی محبت ورثہ میں پالی ہے کیونکہ ڈاکٹر بلی گراہم نے اپنا سب کام کاج اپنے ۴۳ سالہ بیٹے کے سپر دکر دیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کے کام کو کیسے چلاتے ہیں۔پہلے تو وہ باغی بیٹے کے طور پر مشہور تھے۔ڈاکٹر بلی گراہم تو بعض دفعہ چھ چھ گھنٹے خطاب کرتے اور بڑے بڑے اجتماعات پر اجتماعی دعا کے دوران رفت طاری کر دیتے۔لوگ گھنٹوں روتے اور دعا کرتے لیکن ریورنڈ ہیری جے ہر برٹ کہتے ہیں کہ یہ سب بے کا رتھا اگر لوگوں کے دلوں پر اس کا واقعی اثر ہوتا تو ان کے جانے کے بعد گرجوں میں حاضری بڑھتی مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔لوگ محض ایک وقتی لطف اٹھاتے تھے اور بات وہیں ختم ہو جاتی تھی۔ڈاکٹر بلی گراہم وہی صاحب ہیں کہ جب وہ ایک بار افریقہ میں ایسے ہی دعائیہ اجتماعات منعقد کرتے پھر رہے تھے تو ہمارے مبلغ محترم شیخ مبارک احمد صاحب (اطال اللہ عمرہ ) نے ان کو دعا کے مقابلہ کا چیلنج دیا تھا لیکن انہوں نے راہ فرار اختیار کر لی تھی۔(الفضل انٹر نیشنل 10۔5۔96)