مکتوب آسٹریلیا — Page 398
398 دورانسانیت سات ہزار سال کا ہوتا ہے پچاس ہزار سالہ زمینی دور کے آخری سات ہزار سالہ حصہ کو دور انسانیت کی دور نبوت کہا جاتا ہے۔یہ آخری سات ہزار سال ظہور آدم سے لے کر اس دور کے خاتمہ تک ہوتے ہیں۔پچاس ہزار سالوں کے ابتدائی تینتالیس ہزار سالوں میں زمین روئیدگی سے تقریباً خالی ہو جاتی ہے اور ہزاروں سالوں کے بعد آہستہ آہستہ زندگی کے قیام اور انسان کی رہائش کے قابل ہوتی ہے۔گزشتہ دور کے خاتمہ پر جو اکا دکا انسان استثنائی طو پر دنیا کے کسی حصہ میں جان سے بچ جاتے ہیں وہ اس عذاب اور اس کی مسموم فضا سے ذہنی اور جسمانی طور مفلوج ہو جاتے ہیں اور انسان کہلانے کے قابل نہیں رہتے۔پیدائش انسانی کا سلسلہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔اگر کہیں کوئی بچہ جنم بھی لے تو وہ بھی مسموم فضا سے متاثر ہوتا ہے۔چنانچہ ایٹم بم کے اثرات بھی ایسے ہی بیان کئے جاتے ہیں۔حیوانات اس صدمہ سے پہلے نجات حاصل کرتے ہیں۔چنانچہ درندوں سے بچنے کے لئے وہ نامکمل انسان غاروں میں رہنا شروع کر دیتے ہیں ایک وقت کے بعد خدا کی رحمت پھر جوش میں آتی ہے اور ان کے قومی ترقی کرنے لگتے ہیں اور مسموم فضا کے اثرات دور ہونا شروع ہوتے ہیں اور جب وہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ مل جل کر رہ سکیں تو اللہ تعالیٰ آدم کو زمین میں اپنا جانشین مقرر کر دیتا ہے۔وہ انہیں وحدانیت کا ابتدائی درس دیتے ہیں۔غاروں سے باہر نکال کر معاشرہ کی بنیاد ڈالتے ہیں۔عربی زبان اور زراعت کا علم سکھاتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔اس کے بعد انسان دوربارہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگ پڑتا ہے۔اس دور انسانیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیکچر سیالکوٹ میں صفحہ ۶۔ے پر فرماتے ہیں: تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لیکر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار سال رکھی ہے۔۔۔چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو۔کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت