مکتوب آسٹریلیا — Page 399
399 دی ہے اور یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے وہ مجد دصدی بھی ہے اور مجددالف آخر بھی۔“ پھر حضور علیہ السلام لیکچر لا ہور صفحہ ۳۸۔۳۹ پر فرماتے ہیں: یہ سب علامتیں اس زمانہ میں پوری ہوگئیں ( یعنی قرب قیامت کی ناقل ) اور ایک اور علامت قرآن شریف نے مسیح موعود کے زمانہ کے لئے قرار دی ہے کہ ایک جگہ فرماتا ہے۔اِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ یعنی ایک دن خدا کا ایسا ہے جیسا تمہارا ہزار برس ہے۔پس چونکہ دن سات ہیں اس لئے اس آیت میں دنیا کی عمر سات ہزار برس قرار دی ہے۔لیکن یہ عمر اس آدم کے زمانہ سے ہے جس کی ہم اولا د ہیں۔خدا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا تھی۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ لوگ کون تھے اور کس قسم کے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ سات ہزار برس میں دنیا کا ایک دور ختم ہوتا ہے۔ہمیں معلوم نہیں کہ دنیا پر اس طرح سے کتنے دور گزر چکے ہیں اور کتنے آدم اپنے اپنے وقت میں آچکے ہیں۔۔۔۔۔اس حساب سے انسانی نوع کی عمر میں سے اب اس زمانہ میں چھ ہزار برس گزر چکے ہیں اور ایک ہزار برس باقی ہیں۔“ ایک لاکھ آدم گزرے ہیں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ تفسیر کبیر میں سورۃ حج کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس موقعہ پر حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کے ایک کشف کا ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب فتوحات مکیہ کی جلد میں بیان فرمایا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ”میں نے ایک دفعہ کشفی حالت میں دیکھا کہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا ہوں اور میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں