مکتوب آسٹریلیا — Page 397
397 حساب سے ہوتے ہیں۔پس یہ اختلاف کوئی نہیں۔آدم کی نسل سے سلسلا انبیاء کی عمر ممکن ہے سات ہزار سال ہو۔اور طبقات الارض کے اندازے کے لحاظ سے دنیا کی عمر پچاس ہزار سال ہو۔پس یہ کوئی اختلاف نہیں۔“ حضور کی اس تشریح سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ زمین کا ایک دور پچاس ہزار سال کا اور اس دور کے آدم سے لے کر اس کے خاتمہ تک کا عرصہ سات ہزار سال ہوتا ہے۔دور کے خاتمہ کا حال اسی سورۃ معارج میں آگے چل کر دور کے خاتمہ کا حال بیان ہوا ہے اور ان خرابیوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں آخری زمانہ کے انسان مبتلا ہوں گے اور جو خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے کا موجب ہوں گے۔ان سب امور کو بیان کرنے کے بعد سورۃ کے آخر میں فرمایا ذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ (المعارج : ۴۵) کہ یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی یہ ہے تفصیل اس دور کے خاتمہ کی جس کے بارہ میں سائل نے سوال کیا تھا۔پچاس ہزار سالہ زمینی دور کے خاتمہ کا حال بیان فرماتے ہوئے بتایا کہ اس کا خاتمہ شدید شعلہ والے عذاب سے ہوگا۔آسمان کا رنگ پگھلائے ہوئے تانبہ کی طرح ہو جائے گا اور پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح ہو جائیں گے اور کوئی شخص اس سے بھاگ کر بچ نہیں سکے گا۔ان آیات کی تشریح میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یعنی ایسی ایسی ایجاد میں نکل آئینگی جیسے ایٹم بم اور ہائیڈ ورجن ہم کہ جن کے گرنے سے پہاڑوں جیسی مضبوط چیز بھی روئی کے گالوں کی طرح اڑ 66 جائے گی۔“ ابھی چند روز ہوئے ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک روسی ماہر کے اندازہ کے مطابق اس وقت بھی دنیا میں اتنے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں کہ جو ساری دنیا کی مکمل تباہی کے لئے کافی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا قرآن مجید کی بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔