مکتوب آسٹریلیا — Page 387
387 جب انسان دو پاؤں پر چلنے لگا تھا جسے Homo Erectus کہتے ہیں گویا یا تو انسان اسی زمانہ میں یہاں پہنچ گیا تھا اور یا پھر انسانیت کئی مراکز میں ارتقائی مراحل آزادانہ طور پر طے کرتی رہی ہے۔اگر جدید سائنسی تحقیقات کو درست تسلیم کیا جائے تو یہ مانے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ ہمارے آدم سے پہلے بھی زمین پر انسان بستا تھا اور آدم زمین پر خدا کا خلیفہ تو تھا لیکن پہلا انسان نہیں تھا۔لیکن یہ بات بائبل کے بیان کے خلاف ہے جو کہتی ہے کہ آدم زمین پر پہلا انسان تھا (1:26-2:8 Genesis) اور چونکہ یہ بات سائنسی تحقیقات کے خلاف ہے لہذا بہت لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ یا تو بائبل محرف ہوچکی ہے یا وحی والہام کا سلسلہ ( نعوذ باللہ ) مشکوک ہے چنانچہ ایسے لوگ منتشلک اور دہر یہ ہو گئے ہیں۔قرآن کریم کا انسانیت پر احسان ہے کہ اس نے اس معاملہ میں بھی لوگوں کو شک کی دلدل سے باہر نکالا ہے کیونکہ یہ کتاب خودشک سے بالا ہے۔چنانچہ موجودہ تحقیقات سے بہت پہلے کوئی ۸۹ سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی۔سائل پروفیسر ریگ انگلستان کا رہنے والا ایک ثقہ ماہر علم ہیئت تھا وہ تمام دنیا کی سیر کے ارادے سے وطن سے نکلا اور بڑے بڑے لیکچر دیتا پھر رہا تھا کہ لاہور بھی آنکلا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اس کے لیکچر کو سنا اور اس سے ملاقات کی اور تبلیغ کی۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے کی خواہش ظاہر کی۔آپ ان دنوں اپنے آخری سفر کے دوران لاہور میں قیام پذیر تھے۔حضور نے ملاقات کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس نے ۱۲ مئی ۱۹۰۸ء اور دوسری بار ۱۸؎ مئی ۱۹۰۸ء کو حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور اس دوران اس نے بہت سے سوالات پوچھے جن کے حضور نے بہت لطیف جواب مرحمت فرمائے۔ایک سوال جو اس نے پوچھا وہ یہ تھا کہ ( ملفوظات جلد دہم صفحه ۴۲۶،۳۵۳) بائبل میں لکھا ہے کہ آدم یا یوں کہئے کہ پہلا انسان بیچون بجون میں پیدا ہوا تھا اور اس کا وہی ملک تھا۔تو پھر کیا یہ لوگ جو دنیا کے مختلف حصوں امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں یہ اس آدم کی اولاد سے ہیں؟“