مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 388 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 388

388 اس سوال کا جو جواب حضور نے مرحمت فرمایا وہ یہ تھا کہ : ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی اس مسئلہ میں ہم تو ریت کی پیروی کرتے ہیں کہ چھ سات ہزار سال سے ہی جب سے یہ آدم پیدا ہوا تھا اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اور خدا گویا معطل تھا۔اور نہ ہی ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ تمام نسل انسانی جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ اسی آخری آدم کی نسل ہے۔ہم تو اس آدم سے پہلے بھی نسل انسانی کے قائل ہیں جیسا کہ قرآن شریف کے الفاظ سے پتہ لگتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة (البقره:٣١) خلیفہ کہتے ہیں جانشین کو۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی پس امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اسی آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کہ کسی دوسرے آدمی کی اولاد میں سے ہیں۔( ملفوظات جلد دہم صفحه ۴۳۲) اس سلسلہ میں ایک اور دلچسپ امر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کشفا یہ علم دیا گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کا ظہور ( یعنی دعوی نبوت یا قرآنی وحی کا آغاز ) آدم کے ۴۵۹۸ شمسی سال بعد ہوا اور آنحضرت ﷺ کے روز وفات تک ۴۷۳۹ قمری سال گزر چکے تھے۔(تحفہ گولڑ و یه صفحه ۹۲ - ۹۴) اس حساب سے تادم تحریر آدم سے ۵۹۸۵ شمسی سال گزر چکے ہیں ( ہوسکتا ہے اس بنیاد پر کبھی نئے کیلنڈر کا آغاز بھی کیا جائے ) یہ عرصہ قمری حساب سے ۶۱۴۶ سال بنتا ہے۔ظہور نبوت ۲۰ اگست ۶۱۰ء کو ہوا تھا جس پر ۱۳۸۷ سال گزر چکے ہیں۔عہدی نبوی کا قمری شمسی کیلنڈر مؤلفہ مولانا دوست محمد شاہد صاحب) قرآن کریم کا اسلوب بائبل کی اصلاح کرنے کا بڑا پیارا ہے۔کاش بائبل کے پیروکار قرآن کریم کے اس احسان پر غور کریں۔یہی ایک مثال لے لیں۔بائبل بھی کہتی ہے کہ آدم کومٹی سے