مکتوب آسٹریلیا — Page 368
368 گھڑیوں کی دواقسام گھڑیاں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک وہ جو مادی دنیا میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو ماپتی ہیں یہ مشینی بھی ہوتی ہیں اور عناصر اور اجرام فلکی میں مسلسل رونما ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق بھی ہوتی ہیں جیسے ایٹمی کلاک یا نظام شمسی کی حرکت۔گھڑیوں کی دوسری قسم کو روحانی کہہ سکتے ہیں اس لئے کہ اس کا تعلق تبدیلیوں کے اس ادراک یا شعور سے ہے جو روح انسانی میں ودیعت کہا گیا ہے۔ایک بے ہوش یا گہری نیند میں سویا ہوا شخص چونکہ ماحول میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس نہیں کر سکتا اس لئے اس کیفیت میں گزرے ہوئے وقت کا بھی اسے احساس نہیں ہوتا ان کو نفسیاتی گھڑیاں (Psychological Clocks) بھی کہا جاسکتا ہے۔انسان اپنا کام علم اپنے حواس خمسہ اور ان سے ماورا جو چھٹی حس ہے ان کے ذریعہ حاصل کرتا ہے اور ان کا تعلق دماغ (Brain) کی ساخت اور ذہن (Mind) کی مخصوص استعدادوں کے ساتھ ہے یعنی اگر دماغ کو ایک کمپیوٹر سے تشبیہ دیں تو جیسا خالق نے اس کو پروگرام کیا ہے نفسیاتی گھڑی ویسا ہی وقت بتائے گی ادراک و شعور کی علامتیں حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں اور مختلف انواع (Species) میں مختلف ہوتی ہیں۔اسی لئے حیوانوں اور انسانوں میں چونکہ یہ پروگرامنگ مختلف ہوتی ہے اس لئے ان کا ادراک وشعور اور وقت کا احساس بھی مختلف ہوتا ہے۔مثال کے طور پر انسانی کان بہت تھوڑی آوازوں کوسن سکتے ہیں یہ بھی خدا کا احسان ہے ورنہ ہمارے ارد گرد ہر وقت اتنی آواز میں موجود ہوتی ہیں کہ ان کے ایک تھوڑے سے حصہ کو بھی سن سکتے تو شور سے پاگل ہی ہو جاتے۔اگر کوئی چیز ایک سیکنڈ میں سولہ تا اٹھارہ بار ارتعاش (Vibrate) کرے تو انسان اس مسلسل آواز کو نہیں سکتا اور اگر ارتعاش کی رفتار ایک سیکنڈ میں ہیں ہزار مرتبہ ہو جائے تو ایسی آواز کو انسان بالکل نہیں سن سکتا۔اس کے بالمقابل کتا ارتمیں سو ( ۳۸۰۰) فی سیکنڈ مرتعش ہونے والی آواز کو بھی سن سکتا ہے اس لئے یہ عین ممکن ہے کہ آپ کا کتا ایک سخت اور تیز آواز سن رہا ہو اور گھبرا کر ادھر ادھر دیکھ رہا ہو اور آپ کہیں پتہ نہیں اس کو کیا ہو گیا ہے جبکہ کتا شاید الٹا یہ سوچتا ہوگا کہ میرا مالک بہرا ہے کہ اتنی اونچی آواز بھی نہیں سن سکتا۔یہی حال دوسری حسوں کا بھی ہے اور عالم حیوانات میں اس کی ہزاروں مثالیں بکھری پڑی ہیں۔سچی بات یہی ہے جو خدا نے کہی کہ