مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 367 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 367

367 یا انڈہ۔کہا جاتا ہے کہ کوئی سے دولھوں کے درمیانی وقفہ کو وقت کہتے ہیں لیکن وہ وقفہ بذات خود وقت ہی تو ہے اس لئے مسئلہ تو حل نہ ہوا۔صرف وقت کا ایک مترادف لفظ ہاتھ آ گیا لیکن علم میں کوئی اضافہ نہ ہوا۔سوال یہ ہے کہ کیا وقت کی کوئی تعریف بغیر وقت یا اس کا مترادف لفظ استعمال کئے ہو سکتی ہے۔اگر نہیں ہوسکتی تو جب کسی کو گھنٹوں۔منٹوں یا سیکنڈوں میں وقت بتاتے ہیں تو دراصل اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ گھڑیاں دراصل وقت کی پیمائش نہیں کرتیں بلکہ وہ صرف ایک سٹینڈرڈ ہیں جن سے تبدیلی (Change) کو ماپا جاتا ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دراصل وقت نام ہے تبدیلیوں کے باہمی تعلق اور نسبت کو ماپنے کا۔کلاک بذات خود ایک تبدیلی کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ یہ ایک ایسا آلہ ہے جس سے لوگ دوسری تبدیلیوں کو مانتے ہیں مثلاً اگر کوئی شخص دوڑ رہا ہے تو وہ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جاتا ہے۔اس جگہ کی تبدیلی کو ہم سوئیوں کی جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منسلک کر لیتے ہیں یہ گو یا دونوں کا باہمی تعلق یا نسبت ہے۔ہم ان تبدیلیوں کو مختصر طور پر یوں بیان کرتے ہیں کہ فلاں شخص دس منٹ میں ایک میل دوڑا اس طرح جگہ تبدیلی یعنی ایک میل کو کلاک کی سوئیوں کی جگہ کی تبدیلی یعنی دس منٹ کے ساتھ منسلک کر دیا۔اس لئے بجائے یہ کہنے کہ کلاک وقت کو ماپتی ہے یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ کلاک تبدیلی (Change) ظاہر کرنے کا ایک سٹینڈرڈ ہے۔پس جب ہم وقت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو دراصل ہمارا منشاء تبدیلی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔اس بات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر بالفرض کا ئنات میں کوئی تبدیلی نہ ہو رہی ہو اور ہر چیز ساکن ہو جائے تو وقت بھی ٹھہر جائے گا لیکن جب تک کا ئنات موجود ہے ایسا ہونا ممکن نہیں۔مخلوق کا ہر آن بدلتے رہنا خالق کے ہر آن نئی شان میں جلوہ گر ہونے کا مظہر ہے۔چونکہ عناصر میں ہر آن تبدیلی کا عمل جاری ہے اور ایسے آلے بن گئے ہیں جن سے اس تبدیلی کا پتہ چلایا جا سکتا ہے اس لئے اس تبدیلی کو وقت ماپنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔نیز ہمارے نظام شمسی ، یعنی سورج چاند اور زمین وغیرہ میں جو تبدیلیاں وقوع میں آرہی ہیں ان کو بھی وقت ماپنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے یعنی ان میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو اپنے کلاک کی تبدیلیوں کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے۔