مکتوب آسٹریلیا — Page 369
369 صرف خدا ہی کو علم ہے کہ تمہارے سامنے کیا ہے اور تمہارے پیچھے کیا ہے اور نہ تمہیں حاضر کا علم ہے نہ غائب کا سوائے اتنے حصہ کے جو خدا تمہیں دینا چاہئے۔اس اصول کے تابع یہی کہا جاسکتا ہے کہ خود وقت اور اس کا احساس ادراک وشعور بھی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے انسان وہی کچھ جان سکتا ہے جو اسے خدا بتائے یا سمجھائے۔وقت محدود ہے یا لا محدود وقت کی ماہیت کا مسئلہ ہمیشہ سے سائنسدانوں اور فلاسفروں کے لئے دلچسپی کا حامل رہا ہے۔جس طور پر کسی نے کائنات کو سمجھا اسی کے مطابق وقت کے محدود یالا محدود ہونے کے بارہ میں رائے قائم کی۔پروفیسر سٹیفن ہاکنگ (Prof Stephen Hawking) نے اپنی مشہور کتاب "A Brief History of Time" میں اس بارے میں بعض آراء کا ذکر کیا ہے جن کا خلاصہ کچھ یوں ہے: (۱) علمائے یہود عیسائیت اور اسلام کہتے ہیں کہ کائنات کا آغاز ایک خاص وقت پر ہوا۔اس سے پہلے عدم تھا۔(۲) سینٹ آگسٹائن (Agustine) نے کہا کہ وقت ہر مخلوق کی صفت ہے یعنی جو چیز وقت کے ساتھ بندھی ہوگی وہ ضروری مخلوق ہوگی اسی لئے خالق وقت سے منزہ ہے۔(۳) ارسطور اور یونانی فلاسفر کہتے تھے کہ ہماری دنیا اور کائنات اور دنیا ہمیشہ سے یونہی ہے اور ہمیشہ یونہی رہے گی ان کے سامنے جب یہ اعتراض پیش کیا گیا کہ تہذیب و تمدن کی عمر اتنی تھوڑی اور محدود کیوں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ تہذیب و تمدن کے دور آتے جاتے رہتے ہیں اور یہ بنتے مٹتے رہتے ہیں اس لئے پتہ نہیں لگ سکتا کہ کائنات کب سے ہے۔(۴) ایک فلاسفر Immanuel Kant نے اپنی کتاب Critipue of Pure Reason میں لکھا کہ کائنات کے ہمیشہ سے موجود ہونے کے دلائل بھی موجود ہیں اور اس کے الٹ ایک خاص وقت پر پیدا ہونے کے بھی۔اگر ایک مانا جائے کہ کائنات ہمیشہ سے ایسے ہی ہے تو وقت لا محدود ( Infinite) ہونا چاہئے لیکن یہ اس لئے درست نہیں کہ اگر لامحدود (Infinite) کو