مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 223 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 223

223 جس نے یہ باتیں بیان کی ہیں وہ خود ہی ایسا ہے یعنی جنہوں نے دوسروں کے بارہ میں اچھی رائے ظاہر کی وہ خود ا چھے تھے اور جس نے نکتہ چینی کی اور دوسروں کے نقص بیان کئے وہ خودا چھے نہ تھے۔ان تجربات سے پروفیسر مذکور نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر آپ مجلس میں دوسروں کے نقائص اور کمزوریاں بیان کرتے ہیں تو سننے والوں کے ذہن میں خود آپ کے بارہ میں برا تا تر پیدا ہوتا ہے اور خود آپ کا مقام ان کی نگاہ میں گر جاتا ہے۔اور جو شخص دوسروں کے بارہ میں بالعموم اچھی اور مثبت رائے ظاہر کرتا ہے لوگ خود اس کو اچھا سمجھتے ہیں۔رپورٹر باب بیل تجربات کے مذکورہ بالا نتائج تحریر کر کے لکھتے ہیں کہ ہماری ماں ٹھیک ہی کہا کرتی تھی کہ اگر تم کسی کے بارہ میں اچھی بات نہیں کر سکتے تو پھر بہتر ہے کہ منہ بند رکھو اور خاموش رہو۔(ماخوذ از سڈنی ہیرلڈ ۲۸ مارچ ۱۹۹۸ء) باب بیل کی مان واقعی ٹھیک کہا کرتی تھی۔قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ ہر غیبت اور نکتہ چینی کرنے والے کے لئے ہلاکت ہے اور یہ کہ بچوں اور نیکوں کی صحبت اختیار کیا کرو۔اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہی فرمایا تھا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ ہے یعنی جیسا تم دوسرے کو دیکھتے ہو در اصل تم اپنا عکس ہی اس میں دیکھتے ہو۔اگر تم اس کو دل سے اچھا سمجھتے ہو تو تم خود اچھے ہو اور اگر برا سمجھتے ہو تو تمہاری اپنی برائی ہی اس میں جھلکتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا رویہ کسی کا دوسرے کے بارہ میں ہوتا ہے ویسا ہی لاشعوری طور پر دوسرے کا رویہ اس کے بارہ میں ہو جاتا ہے منافقت سے اختیار کیا ہوار و یہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔جھوٹ کا ٹھ کی ہنڈیا کی طرح ہوتا ہے۔حضرت رسول کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ قوم ہلاک ہوگئی اسی نے قوم کو ہلاک کیا بلکہ وہ خودسب سے زیادہ ہلاک شدہ ہے۔بلاشبہ انسان کے خیالات دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ماہرین نفسیات نے بھی تجربات سے یہی ثابت کیا ہے اور سائنس دان بھی خیال کی قوت (Thought Energy) کے قائل ہیں۔امریکہ کی بحریہ نے محض خیال کی طاقت سے بطور ریموٹ کنٹرول کشتی کی موٹر کو کنٹرول کر لیا ہے اور اب محض خیال اور ارادہ کی قوت سے ہوائی جہازوں کے نظام کو کنٹرول کرنے کے بارہ میں کوشش کر رہے ہیں۔یہ وہ باتیں ہیں جو قرآن وحدیث کی باتوں کو سچا ثابت کرنے والی ہیں۔اس