مکتوب آسٹریلیا — Page 12
12 چاہئے۔اگر بامر مجبوری دو جانور ذبح نہ کر سکے تو ایک پر بھی کفایت کر سکتا ہے۔66 (فقه احمد یہ عبادات صفحه ۱۸۳) لفظ عقیقہ کا مادہ عق ہے جس کے معنے ہیں اس نے آزاد کیا۔اس نے ذبح کیا۔اس نے کاٹا بچہ کی ولادت کا وقت بچہ اور اس کی ماں دونوں کے لئے نازک اور خطرات سے پر ہوتا ہے۔بچہ کی بخیر و عافیت پیدائش پر خوش ہونا اور خدا کے فضل اور عطا پر اس کا شکر ادا کرنا فطرتی بات ہے۔بچہ ایک طرف بطن مادر سے آزاد ہوتا ہے دوسری طرف ہر بچہ آزاد اور معصوم پیدا ہوتا ہے۔اس پر ساتویں روز شکرانے کے طور پر جانور ذبح کرنا خود کھانا اور رشتہ داروں دوستوں کو کھلانا اور بالخصوص غریبوں کو گوشت میں سے حصہ دینا عقیقہ کہلاتا ہے۔پیدائش کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کرنا منع نہیں لیکن اس کو عقیقہ کا بدل بنا لینا جائز نہیں۔کئی لوگ مٹھائی پر تو اتنا زور دیتے ہیں کہ گویا فرض ہے اور عقیقہ کو بالکل بھول جاتے ہیں یہ مناسب نہیں۔خدا اور رسول کے احکام کو اولیت دینی چاہئے۔بہت سے مذاہب میں بالوں کو منڈوانا اپنے آپ کو خدا کے لئے وقف کر دینے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔نوزائیدہ بچہ کے بال منڈوانے سے بھی یہی مراد ہے کہ اے خدا ہم اس بچہ کو تیری غلامی میں دیتے ہیں۔اسے ساری عمر اپنا بندہ (غلام ) ہی بنائے رکھنا یہ شیطان یا اپنی خواہشات کا غلام نہ بنے۔تیرا اور تیرے رسول کا غلام بنے۔وقف کی اہمیت لڑکے کے لئے بنسبت لڑکی کے زیادہ ہے کیونکہ لڑ کے آزادی کے ساتھ تمام خدمات بجالا سکتے ہیں۔نیز لڑ کے پر بیوی بچوں اور خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔اور جتنا کسی پر بوجھ ہو اتنا ہی اس کے گرنے کا امکان ہوتا ہے۔اس دوسری ذمہ داری کے پیش نظر لڑکے کی طرف سے دو جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور لڑکی کی طرف سے ایک لیکن حالات کے پیش نظر یہ بھی جائز ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں کی طرف سے ایک ایک جانور ہی ذبح کیا جائے اگر کوئی ایسی مجبوری ہو کہ ساتویں روز عقیقہ نہ ہو سکے تو بعد میں جب توفیق ملے کیا جاسکتا ہے۔انسان اپنا عقیقہ خود بھی کر سکتا ہے۔عقیقہ کے ساتھ بالوں کے وزن کے برابر حسب استطاعت چاندی اور سونے کا صدقہ بھی کرنا چاہئے بچہ کی پیدائش پر یہ صدقہ دینا نہیں بھولنا چاہیئے۔لڑکے کی صورت میں یہ بھی مناسب ہے کہ ساتویں روز اس کا ختنہ بھی عقیقہ کے ساتھ ہی کر دیا جائے۔ختنہ بھی اس عہد کا نشان ہے جو حضرت